الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 47
صلے اللہ علیہ وسلم اس لحاظ سے معاذ اللہ ادھور نے خاتم النبیین ہوگئے اور حضرت جیسے علیہ السلام پورے خاتم النبیین بن گئے۔حالانکہ خدا ہے نے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی خاتم النبیین قرار دیا ہے نہ کسی اور نبی کو۔مفتی صاحب کی واضح رہے مفتی صاحب کی یہ بھوت ہمارے لئے کوئی تیجہ غیر نہیں۔ہم تو مولانا محمد قاسم صاحب کی طرح بے نتیجہ بحث تو خاتم النبیین کے معنی قائم بالذات میں مانتے ہیں۔یعنی نبیوں کے لئے نبوت پانے میں موثر ذریعہ بصورت قرآت خاتم بفتح تار اور نبیوں کے لئے ثبوت پانے میں موثر بی بصورت قرآت خاتم بحر تاؤ۔یہ خاتم النبیین کے معنی ہمارے نزدیک بدلالت مطابقی ہیں۔اور ان معنی کو آخری تشریعی نبی ہونے کا مفہوم بدلالت التزامی نازم ہے ان سنی نبی کا لہذا ان معنوں کی موجودگی میں آنحضرت مصلے اللہ علیہ وسلم کے جہ آپ کے نی سے غیر تشریعی نبی اُمتی ہونے کی صورت میں آسکتا ہے اس طرح وہ اقتی بھی ہو گا۔اور بنی بھی۔وہ کوئی نئی شریعیت نہیں لائے گا۔بنکہ شریعت اسلام کی تبلیغ وستجدید کے لئے آئے گا۔اور حسب حدیث نبوی متعلق نزول مسیح الا اللهُ خَلِيفَن في أمين (الطبرانی) وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں آپ کا خلیفہ ہوگا اور اسے اعترت لینے ابن مریم سے شدید مشابہت رکھنے کی وجہ سے استعار کا لینے ابن مریم کا نام دیا جائیگا وہی امام معادی ہوگا۔جیسا کہ مسند احمد بن طبق کی حدیث میں آیا ہے کہ ہوگا۔صنف (