الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 288
YAA وہ جہنم کی آگ میں پڑنے والے ہیں۔اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ لوگ مخلوق میں سے بہترین لوگ ہیں۔اور بیورو کے متعلق جَعَل مِنْهُمُ القردة والخنازير و عَبْدَ الطَّالوت (المائدہ آیت ۶۱ ) کے الفاظ بھی وارد ہیں۔کہ انہیں پندر اور سور بنا دیا ہے اور وہ شیطان کے پجاری ہیں اور ان کے متعلق یہ بھی کہا ہے:۔۔مَثَلُ الذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يُنيلُ اسْفَارًا (جمعه) کہ ان لوگوں کی مثال جو حاملین تو رات تھے مگر اس پر عامل نہیں مینی بود گدھے کی مثال ہیں جوں پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔یہودیوں کے لئے سور - بندر اور گدھے کے الفاظ مجازا ان کی معائداً حالت کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔خواہ وہ اس سے خوش نہ ہوں۔مگر مجازی طور پر سخت الفافا کا استعمال کرنا مامورین کے لئے بعض حالات میں ناگزیر ہو جاتا ہے۔چونکہ معیض مسلمانوں نے از راجہ عناد حضرت مسیح موظو و علیہ السلام کو گالیاں دیں اور اپنے انتہائی عناد کا عیسائیوں اور یہود کی طرح اظہار کیا۔اس لئے قرآن و حدیت کی پیش گوئیوں کے مطابق آپ کو ایسے لوگوں کے لئے مشرکی۔عیسائی اور یہود کے الفاظ استعمال کرنا پڑے۔اور ایک معاند شخص کے متعلق جو آپ کے خلاف عیسائیوں کی تائید میں کمربستہ تھا۔اور آپ کی پیشگوئی کو مبینہ نے میں عیسائیوں کی مدد کر رہا تھا ولد الحرام لینے کا