الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 287 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 287

بنار پر گالیاں دی ہیں۔انہوں نے گالیاں تو دی ہیں لیکن کیا ہم اس کی وجہ سے اپنے محبوب حضرت محمد مصطلے سلے اللہ علیہ وسلم کی نا فرمانی کریں گے اور ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے ؟ یعنی ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا ، پس ان شعروں کا تعلق تو مسلمانوں سے ہرگز نہیں۔ہاں مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے آپ کے خلات عناد کی راہ سے گندا چھالا ہے ان کے خلفات آپ نے مظلوم ہونے کے بعد سخت الفاظ میں بعض تلخ حقائق کا انک است کیا ہے۔اور مامورین اس کے لئے عبد الله معذور ہوتے ہیں۔اور بعض اوقات انہیں جزاء سيئة سيئة مثلما کے ماتحت میں حقائق کو تلخ الفاظ میں بیان کرنا پڑتا ہے۔مگر ان کے یہ الفاظ صرف معاندین کے متعلق ہوتے ہیں اور مشر قائد اس سے مستنی ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے صاف طور پر اپنی کتاب مجتہ النور میں تحریر فرمایا ہے کہ ہم علماء کی بہتناک اور شر خار کی خدمت سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔خواہ وہ مسلمانوں میں سے ہوں یا آریہ یا عیسائیوں میں سے (ص) قرآن کریم کو بھی بعض معاند بود مشرکین کے متعلق سخت الفاظ استعمال کرنا پڑے ہیں۔چنانچہ ایک آیت کریمہ میں وارد ہے إن الذينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ والمشركين في نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُولَيكَ هُم شر البرية (سورة البين) کہ بے شک جن لوگوں نے اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے انکار کیا ہے