الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 13
نما ۱۴ کے ان لوگوں کا شاہد رہا جب تک میں ان میں موجود رہا۔پس جب تو نے مجھے کو وفات دے دی تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا۔یعنی وفات سے پہلے یکن اپنی قوم میں موجود رہا۔اور میں نے انہیں ایسا حکم نہیں دیا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بھانو سو جب تو نے مجھے کو وفات دے دی، تو میری نگرانی ختم ہو اور پھر اس قوم تیری میں قوم میں دوبارہ جائے کا موقعہ ہی نہیں ملا کہ جا کر ان کی اصلاح کرتا۔ذمہ داری کے اس کو مجھ امت سے اسے بعدا میری اب اگر کوئی شخص تو نیکی کے معروف معافی کو چھوڑ کر اس جگہ یہ معنی کرے کہ جب تو نے مجھے کو آسمان پر اعمالیا تو پھر تو ہی نگران تھا تو یہ معنی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا فائدہ نہیں دیتے۔کیونکہ اس صورت میں آیت کا مفاد یہ بن جاتا ہے کہ آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد قیامت کے دن تک ان کی قوم غذا کی نگرانی میں رہی ہے نہ ان کی اپنی نگرانی ہیں۔پس یہ آیت مسیح کی دوبارہ آمد میں روگ ہے۔خواہ ان کو وفات یافتہ قرار دیا جائے یا زندہ سمجھا جائے۔لیکن زندہ سمجھتے ہیں یہ قباحت ہے کہ پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ قیامت تک انہیں موت والی کوئی نہیں ہوگی اور وہ قیامت کے دن مرنے کے بعد زندہ ہونے کے بغیر ہی خدا کے حضور پیش ہو جائیں گے حالانکہ خدا واتب كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ المَوت ( آل عمران : ۱۸۵) کہ نفس کے لئے موت کا ذائقہ منہ دری ہے۔