الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 178 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 178

189 صرف وہی لوگ رکھتے ہیں جو پاک دل میں وہ جو پاک ولی کی مناسبت کی وجہ سے اچھی نیت کے ساتھ جب وہ قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو اُن پر قرآن کریم کے حقائق کھلتے ہیں کیونکہ وہ قلبی نور سے انوالہ قرآنیہ سے رابطہ رکھتے ہیں۔ظلمالی قلب انوار قرآنیہ کی شناخت نہیں کر سکتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے - يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْقِينَ الذِيْنَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الار اولولك هُمُ الخَسِرُونَ۔یعنی خدا تعالے اس قرآن کے ذریعہ بہت سوں کو گمراہ کرتا اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ اس سے صرف انہی لوگوں کو گراہ کرتاہے جو نا فرمان ہوتے ہیں جو اللہ کے عہد کو اس کے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور قطع تعلقاً کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور وہ لوگ خسارہ پانیوائے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ ہو لوگ باغی اور نافرمان قاطع تعلقات مفسد ہوں یعنی پاک دل اور نیک نیت نہ رکھتے ہوں۔وہ قرآن کریم سے بہایات پانے سے محروم ہو جاتے ہیں اور سجائے ہدایت پانے کے وہ گمراہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں مبانی اعات و ساخت شد نیز فرمایا۔لَنَهْدِدَام وَالذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْـ سبلنا - (العنکبوت آیت (٤) بینی جو لوگ ہم میں ہوکر رینی پاک ولی سے اللہ سے تعلق پیدا کر کے میں ہدہ