الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 177 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 177

KA r چوتھا معیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمایا خود اپنا نفس مطہرہ لیکر قرآن کریم میں غور کرنا ہے کیونجے نفس مطہرہ سے قرآن کریم کو مناسبت ہے اللہ جل شانہ فرماتا ہے لي المارُونَ (الو اقتصر میں قرآن کریم کے حقائق صرف ان پر کھلتے ہیں جو پاک دل ہوں کیونکہ مطر القلب انسان پہ قرآن کریم کے پاک معارف بوجہ مناسب کھل جاتے ہیں اور وہ ان کو شناخت کر لیتا ہے اور سونگھ لیتا ہے! در اس کا دل بول اُٹھتا ہے کہ ہاں میں راہ سچی ہے اور اس کا نور قلب سچائی کی پر لکھ کے لئے ایک عمدہ معیار ہوتا ہے۔پس جب تک انسان صاخب حال نہ ہو اور اس تنگ راہ سے گزرنے والا نہ ہو جس سے انبیاء علیهم السلام گزرے ہیں۔تب تک مناسب ہے اورگستاخی اور تکبر کی جہت سے مفسر قرآن نہ بن بیٹھے ورنہ وہ تفسیر بالرائے ہو گی جس سے بنی علیہ اسلام نے منع فرمایا ہے اور کہا ہے۔مَن فَشَرَ القُرانَ بَرَأَيْهِ نَاصَابَ فَقَدْ اعْطَاء یعنی میں نے اپنی رائے سے مشرآن کی تغییر کی اور اپنے خیال میں اچھی کی تب بھی اس نے برسی تفسیر کی نہ زبركات الدعاء م) واضح ہو کہ یہ معیار تمامیت قیمتی اور مشر وہ ہی ہے اور اس کا استنباط آیت قران لا يمته الا المتظاهرون سے کیا گیا ہے کہ قرآن کریم سے مست