الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 174
ICA ہمیں ان کا جواب محض طفلانہ محسوس ہو رہا ہے۔کیونکہ اِهْدِنَا الصّراط المُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں انعام یافتہ لواری کی راہ طلب کرنے کے لئے جو دعا سکھائی گئی ہے وہ اسی لئے سکھائی گئی ہے کہ خدا تعالے امت کو اس دعا کے ذریعہ وہ نعمتیں دینا چاہتا ہے، جو اس نے پہلوں کو دیں۔تا کہ وہ بھی وہ انعامات پائیں جو پہلے لوگ پا سکے وہ سری آیت میں یہ انعام یافتہ پچار گروہ بیان ہوئے ہیں۔نیتن دری یقین شہداء اور صالحین۔سو اگر انعام یافتہ لوگوں کی راہ پر چلنے سے یہ انعامات خدا تعالئے لینے دینے ہی نہ ہوتے تو یہ دعا کیوں سکھاتا کہ انعام یافتہ لوگوں کی راہ طلب کرو۔اور دوسری آیت میں یہ کیوں فرماتا ہے کہ اللہ رسول کی اطاعت سے تم لوگ انعام یافتہ گروہوں میں سے کسی رکسی گروہ کے فرد بن جاؤ گے۔امام راغب علیہ الرحمة مفردات القرآن میں زیر لفظ کتب آیت قرآنی قالتنا مع الشهیدین کی دعا لکھ کر آگئے اس کی تشریح میں لکھتے ہیں۔اني جعلت في أَمَرَتِهِمْ إِشَارَها إلى قَوْلِهِ مَعَ الذِيْنَ اَنْعَمَ الذین انعم الله عليهم اللہ یعنی میں شاہدین کے ساتھ لکھ لو کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان کے زمرہ میں داخل کردو۔اس آیت کا اشارہ فارليكَ مَعَ الَّذِينَ انعم الله علیہم کی طرف ہے۔پس جب فاكتبنا مع الشهدتین کی دعا کرنے والے بموجب آیت