الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 165
194 چوستی وجہ عدم انطباق کی یہ ہے کہ گورنر پنجاب کے صوبہ بہار میں جانے کی شال میں گورنر پنجا سکے صوبہ بہار میں اپنے کسی ذاتی کام میں جانے کا ذکر ہے مگر خدا کا یک نبی قوم میں اپنے کسی ذاتی کام کے لئے نہیں آتا ، بلکہ خدا کی طرف سے سپرد کردہ بوت کا فریضہ ادا کرنے کے لئے آتا ہے جو تبلیغ واشاعت دین ہے اس لیئے اس کی نبوت ہر حال نافذ ہوگی اسے احمت کے لئے غیر نبی امام تصور نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ اس کی مامت جامع نبوت ہوگی۔پس حضرت عیسی علیہ السلام اگر بفرض محال امت محمدیہ میں آجائیں۔اور بقول مفتی صاحب بنی بھی ہوں اور بہوت سے معزول نہ ہوں تو اس صو ر نہیں ان کی اپنی شریعیت کا نفاذ ضروری ہے اور چونکہ یہ محال ہے لہذا حضرت عیسے علیہ السلام کا امت محمدیہ میں آنا بھی محال ہے کیونکہ یہ عقیدہ مستلزم محال ہے کہ نبی قوم میں موجود بھی ہو اور اپنی نبوت کا نفاذ قوم میں نہ کرے۔ایرانی میں اگر مفتی صاحب اس جگہ یہ کہیں کہ وہ شریعیت محمد یہ کے تابع غیر تشریعی اتی نبی ہو جائیں گے اس لئے اپنی شریعیت کا نفاذ نہیں کریں گے بلکہ محمدی شرقیت کا ہی نفاذ کریں گے۔تو انہیں ماننا پڑا کہ حضرت عیلے علا السلام کی نبوت میں ایک تغیر آجائے گا اور ایک نئی قسم کی نبوت ان کی آمد سے وجود میں آجائیگی پس جب نئی قسم کی نبوت حادث ہوگی اور اس کا حوت نافی خاتم النبین نہیں ہے تو پھر کسی امتی کا اس مقام نبوت کو پا لینا کیوں کر خاتم النبین کے منافی ہو سکتا ہے۔اگر مفتی صاحب کہیں کہ رہیں گے تو وہ تشریعی نبی اور شریعیت اُن کی