الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 122
۱۳۳ پیش کردہ معنوں کا ثبوت آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ میں تلاش کرنا چاہیے تھا۔کیونکہ یہ معنی ان کے مسلمہ بزرگوں کی طرف سے بھی بیان شده موجو د ہیں۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہ معنی جب ان کے ہاں بھی مسلم ہیں تو پھر وہ خود ان کی تائید کیوں نہیں کرتے اور الٹا قرآن و حدیث اور صحابہ سے ان معنوں کی صحت کا ثبوت جماعت احمدیہ سے کیوں مانگتے ہیں؟ پر مفتی صاحب کو یا تو یہ پانچ واپس لے لینا چاہیئے۔اور مولوی محمد قاسم صاحب اور مولوی محمود الحسن صاحب کے ان معنیٰ کا ثبوت خود قرآن مجید ا در احادیث نبویہ اور آثار صحابہ سے تلاش کر کے دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔یا پھر انہیں چاہئیے کہ واشگاف الفاظ میں اپنے ان بزرگوں کو مہر سے بنی بننے کے معنی بیان کرنے میں فلسطی خوردہ قرار دیں۔لیکن اگر مفتی صاحب ان دونوں دیوبندی عالموں کے معنوں کو غلط قرار دیں تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مفتی صاحب موصوف کا ان سنتوں سے انکار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انبیاء پر افضلیت بالذات مرتبی کے امکان کو مستلزم ہوگا۔کیونکہ مولانا محمد قاسم صاحب نے مولوی عبد العزیز صاحب کے ان معنی کے انکار پر لکھا ہے :- آپ خاتمیت تیجا کو مانتے ہی نہیں خاتمیت زمانی کو ہی آپ تسلیم کرتے ہیں خیرا گرچہ اس میں درپردہ انگارا فضلیت نامہ بلوی صلے اللہ علیہ وسلم لازم آتا ہے۔لیکن خاتمیت زمانی کو آپ اتنا عام نہیں کر سکتے جتنا ہم نے خاتمیت مرتبی کو عام کر دیا تھا۔و من خره مجيبه منه