الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 99
7-- کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی ایسا بنی نہ ہوگا جو آپ کی شریعیت کو منسوخ۔کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔۔ہیں حضرت امام ملاعلی قاری نے خاتم النبیین کے معنوں کی وضاحت میں صاف فریاد یا ہے کہ ان بزرگوں کا استی بنی ہونا آیت خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا میں آمیت نام النبین اتنی نہی کے آنے میں مانع ہیں اگر رسول کریم نے للہ علیہ وسلم آیت خاتم النبیین کو استی نبی کے آنے میں بھی مانع سمجھتے توپھر یہ فرماتے کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم دہندہ رہا تو سیدین نی یعنی اتنی ہی ہوتا بلکہ اسکی بجائے زمانے کہ اگر ایرانی زندہ میں بہتا تو یہی نہ ہوتا نہیں کیونکہ میں خاتم النبین ہوں۔اسلامی شریعیت کے آجانے کے بعد صدیق کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہو نا ضروری ہے لہذا صدیق بنی سے مراد یہ ہے کہ کامل اتنی ہو کہ بالفعل نبی ہوتا۔امام ابن حجر المیثمی نے اپنی کتاب الفتاوی الحدیثیہ میں ذیل کی حدیث نبوسی درج کی ہے جو صاحبزادہ ابراہیم کے نبی با لقوہ ہونے پر روشن دلیل ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- عن علي ابن ابي طَالِب لَمَّاتُونِي إِبْرَاهِيمُ اَرْسَلَ النَّبِيُّ عَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اله مادية وجاءته ونسلته وكفنته فخرج رسول الله صلى الله عليهِ وساد وخرج معه النَّاسِ قدفته وادخل النبى صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَل في قبر قالَ آمَا وَ اللَّهِ إِنَّهُ لَى ابْنُ نَبِي وکنز العمال هند به متخلف