الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 98
٩٩ من الصَّحَابَةِ وَكَانَّهُ لَمْ يَظْهَرُنَهُ تَأْوِيلُهُ ( الفوائد المجموعه ها) ترجمہ : - نودی کا اس سے انکار قابل تعیب ہے۔باوجود یکہ اس حدیث کو تین صحابہ نے روایت کیا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لودی پر اس کے صحیح ا معنے نہیں کھلے۔شہاب علی البیضاوی میں اس حدیث کے متعلق لکھا ہے : آقا محمد الحديث فَلا شبهة فيهِ لأَنه رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ وَغيره کہ اس حدیث کی صحت کے بارہ میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ اسے ابن ماجہ وغیرہ حضرت امام ملا علی القاری نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے۔لَوْعَاشَ إِبْرَاهِيمَ وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَ الوَصَارَ عمرُ الكَانَا مِنْ أَنْبَاعِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ یعنی اگر ابراہیم زندہ رہتا اور نبی ہو جاتا اور اسی طرح اگر عمرہ بھی ہو جاتے تو دہ دو دنوں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں سے ہوتے۔پھر اسی پر کو آگے خود ہی واضح کر دیا ہے۔فلا ينا من قوله تَعَالَى عَالَمَ البَنِي إِذِ الْمَعْلَى أَنَّهُ لَا يأتي بعدة نبي يُلسَخُ مِلتَهُ وَلَمْ يَكُن من أميه کہ ان دونوں کا بنی ہوجانا آیت خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا کیو نکہ خام بستن