اخلاقِ احمد — Page 29
اخلاق احمد 29۔۔۔۔۔۔۔بچہ تھا مجھے بھی حضور نے تو “ سے مخاطب نہ کیا تھا۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۴۳) دُعا کا طریق (۱) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ”جب حضرت صاحب مجلس میں بیعت کے بعد یا کسی کی درخواست پر دُعا فرمایا کرتے تھے۔تو آپ کے دونوں ہاتھ منہ کے نہایت قریب ہوتے تھے اور پیشانی و چہرہ مبارک ہاتھوں سے ڈھک جاتا تھا اور آپ آلتی پالتی مار کر دُعا نہیں کیا کرتے تھے۔بلکہ دوزانو ہو کر دعا فرماتے تھے اگر دوسری طرح بھی بیٹھے ہوں تب بھی دُعا کے وقت دوزانو ہو جایا کرتے تھے۔یہ دُعا کے وقت حضور کا ادب الہی تھا۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۷۳۶) گاڑی میں مسافروں کے لیے جگہ خالی کر دینا (۱) مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے بیان کیا کہ ایک دفعہ مجھے حضور کے ساتھ ریل میں سفر کرنے کا اتفاق نصیب ہوا جیسا کہ عام لوگ ریل میں سوار ہوکر باہر سے آنے والے مسافروں سے ترش روئی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔اس وقت بھی بعض اصحاب نے یہ رویہ اختیار کیا۔ان میں سے یہ نا چیز بھی تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسافر کے لیے جگہ خالی کر دی اور مجھے یوں مخاطب کیا کہ اخلاق دکھانے کا یہی موقعہ ہے اس پر میں بہت شرمسار ہوا۔یہ آپ کے اخلاق فاضلہ میں سے ایک عام مثال ہے۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۶۶۷) قادیان میں بار بار آنے کی تاکید ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ” حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان میں بار بار آنے کی تاکید فرماتے رہتے تھے۔“ جامع اخلاق (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۸۸۸) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اخلاق میں کامل تھے۔یعنی آپ نہایت رؤف و رحیم تھے۔تھی تھے۔مہمان نواز تھے۔امجمع الناس تھے ابتلاؤں کے وقت جب لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے۔آپ شیر نر کی طرح آگے بڑھتے تھے عفو چشم پوشی - فیاضی - دیانت - خاکساری - صبر - شکر-استغناء-حیا-غض بصر-عفت۔محنت- قناعت- وفاداری- بے تکلفی - سادگی - شفقت- ادب الہی۔ادب رسول و بزرگان دین- حلم - میانہ روی - ادا ئیگی حقوق - ایفائے وعدہ۔پستی۔ہمدردی۔اشاعتِ دین۔