اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 18 of 33

اخلاقِ احمد — Page 18

اخلاق احمد 18۔کا یہی نتیجہ ہو گا کہ تا کہ آدمی کو نیند آنے لگے اور وہ کام نہ کر سکے۔ہم تو وہاں کام کرنا چاہتے ہیں جہاں گرمی کے مارے لوگوں کا تیل نکلتا ہو۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ ۳۹۷) (۵) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ”جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام معہ چند خدام کے باوا صاحب کا چولہ دیکھنے کے لیے ڈیرہ بابا نا تک تشریف لے گئے تو وہاں ایک بڑ کے درخت کے نیچے کچھ کپڑے بچھا کر جماعت کے لوگوں معہ حضور کے بیٹھ گئے۔مولوی محمد احسن صاحب بھی ہمراہ تھے۔گاؤں کے لوگ حضور کی خبر سُن کر وہاں جمع ہونے لگے تو ان میں سے چند آدمی جو پہلے آئے تھے مولوی محمد احسن صاحب کو مسیح موعود خیال کر کے ان کے ساتھ مصافحہ کر کے بیٹھ گئے۔تین چار آدمیوں کے مصافحہ کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ ان کو دھوکا ہوا ہے۔اس کے بعد مولوی محمد احسن صاحب ہر ایسے شخص کو جو ان کے ساتھ مصافحہ کرتا تھا حضور کی طرف متوجہ کر دیتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ ہیں۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفحه۳۹۸)۔نوٹ: بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بھی ایسا دھوکا لگ جاتا تھا۔چونکہ انبیاء کی مجلس بالکل سادہ اور ہر قسم کے تکلفات سے پاک ہوتی ہے اور سب لوگ محبت کے ساتھ باہم ملے جلے بیٹھے رہتے ہیں اس لیے اجنبی آدمی بعض اوقات عارضی طور پر دھوکا کھا جاتا ( ناقل) ہے۔(1) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ وہ کتابیں جو اکثر حضرت صاحب کی زیر نظر رہتی تھیں۔نیز تصنیف کے تمام کاغذات بستوں میں بندھے رہتے تھے۔ایک ایک وقت میں اس قسم کے تین تین بستے جمع ہو جاتے تھے عموماً دو بستے تو ضرور رہتے تھے۔یہ بستے سلے ہوئے نہیں ہوتے تھے۔بلکہ صرف ایک چورس کپڑا ہوتا تھا۔جس میں کاغذ اور کتا بیں رکھ کر دونوں طرف سے گانٹھیں دے لیا کرتے تھے۔تصنیف کے وقت آپ کا سارا دفتر آپ کا پلنگ ہوتا تھا۔“ مزاح (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۶۹۸) انبیاء علیہم السلام کو روحانی اوصاف کے علاوہ دنیاوی خوبیوں سے بھی ایک وافر حصہ ملتا ہے گویا وہ ہر لحاظ سے اپنے متبعین کے لیے نمونہ ہوتے ہیں۔انہیں خوبیوں میں سے ایک مزاح کی خوبی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں زندہ دلی قائم رہتی ہے اور اُن کی روحوں میں بشاشت پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی احادیث میں ذکر ہے کہ