اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 17 of 33

اخلاقِ احمد — Page 17

اخلاق احمد 17۔۔۔۔۔۔۔(۳) خواجہ عبدالرحمن صاحب متوطن کشمیر نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر میں جب رفع حاجت کے لیے پاخانہ میں جاتے تو پانی کا لوٹا لا ز ما ساتھ لے جاتے تھے اور اندر طہارت کرنے کے علاوہ پاخانہ سے باہر آ کر بھی ہاتھ صاف کرتے تھے۔نیز حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے بیان کیا کہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ طہارت سے فارغ ہو کر ایک دفعہ سادہ پانی سے ہاتھ دھوتے تھے اور پھر مٹی مل کر دوبارہ صاف کرتے تھے۔“ سادگی (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۸۴۱) (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۳۰) (۱) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ مجھے پچھتیس سال تک حضرت مسیح موعود ہ السلام کے عادات واطوار اور شمائل کو بغور دیکھنے کا موقعہ ملا ہے۔گھر میں بھی اور باہر بھی میں نے اپنی ساری عمر میں آج تک کامل طور پر تصنع سے خالی سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کسی کو نہیں دیکھا۔حضور کے کسی قول یا فعل یا حرکت وسکون میں بناوٹ کا شائبہ تک تبھی میں نے کبھی محسوس نہیں کیا۔“ (۲) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کبھی گھر میں ننگے پیر بھی پھر لیتے تھے۔خصوصاً اگر پختہ فرش ہوتا تھا تو بعض اوقات ننگے پاؤں ٹہلتے بھی رہتے تھے اور تصنیف بھی کرتے جاتے تھے۔“ (۳) منشی عبدالعزیز صاحب او جلوی نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آج ہم باغ کی طرف سیر کے لیے جائیں گے۔چنانچہ اسی وقت چل پڑے۔باغ میں دو چار پائیاں بچھی ہوئی تھیں۔باغ کے رکھوالے دو بڑے ٹوکرے شہتوتوں سے بھرے ہوئے لائے اور حضور کے سامنے رکھ دیئے سب دوست چار پائیوں پر بیٹھ گئے بے تکلفی کا یہ عالم تھا کہ حضور پائنتی کی طرف بیٹھے ہوئے تھے اور دوست سرہانے کی طرف سب (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۸۱۹) (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۶۰۶) دوست شہتوت کھانے لگے ، (۴) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ایک دن سخت گرمی کے موسم میں چند احباب دو پہر کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اندر حاضر ہوئے جہاں حضور تصنیف کا کام کر رہے تھے پنکھا بھی اس کمرہ میں نہ تھا۔بعض دوستوں نے عرض کیا کہ حضور کم از کم پنکھا تو لگوالیں تا کہ اس سخت گرمی میں حضور کو کچھ آرام تو ہو۔حضور نے فرمایا کہ اس