جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 77
LL г اور گرجا گھروں پر کلمہ طیبہ لکھا ہو گا۔ے خدا کا نور ہیں ہم کو بجھا سکا نہ کوئی وہ نقش ہیں جیسے اب تک مٹا سکا نہ کوئی ہے ہم نے زمانے کو نور بطحا کا جو شمع ہم نے جلائی جلا سکا نہ کوئی لبوں یہ نشھد ان لا الہ الا الله سبق جو ہم نے سنا یا سنا سکا نہ کوئی پرویز پروازی) دنیا کے احمدیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے بڑی کوئی خواہش اور تمنا نہیں تھی کہ ساری دنیا کلمہ پڑھ لے۔توحید و رسالت محمدی کی اشاعت کے سلسلہ میں آنحضور کتنی بے پناہ تڑپ اور بیمثال جذبہ رکھتے تھے اس کا کسی قدر اندازہ اس حیرت انگیز واقعہ سے ہوتا ہے کہ شوال شد (جنوری ضروری سہ میں غزوہ حنین سے واپسی پر اسلامی لشکر میں اذان دی گئی اس موقعہ پر مکہ کے دس غیر مسلم نوجوان بھی تھے جو آنحضرت سے شدید بغض رکھتے تھے انہوں نے اذان کا کھلا مذاق اڑایا اور محض استہزاء کے طور پر اذانیں دینا شروع کر دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت خاموشی اور پیار سے ان کی اذانیں سنتے رہے پھر ارشاد فرمایا کہ ان میں ایک خوش الحان کی