جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ

by Other Authors

Page 70 of 81

جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 70

แ خدا کی طرف سے " كُن فَيَكُون “ کے اختیارات کا حاصل ہو جاتا ہے منقول ہے کہ ایک گدڑی پوش حضرت خواجہ ابو الحسن خرقانی کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا میں جنید وقت ہوں۔میں شیلی وقت ہوں، میں بایزید وقت ہوں اسپر آپ نے فرمایا : میں خدائے وقت ہوں میں مصطفائے وقت ہوں" تذکرۃ الاولیاء اردو باب ۷، صفحه ۵۱۵ حضرت خواجه فرید الدین عطاری) اصل بات یہ ہے کہ اللہ والوں کا اپنے رب کریم سے ایک ترالا تعلق ہوتا ہے جس کا تصور بھی دنیا پرست آنکھ نہیں کر سکتی جہاں خدا تعالیٰ انہیں اپنی تجلیات خاصہ کا مشاہدہ کراتا ہے، وہاں یہ فانی فی اللہ لوگ تبھی بحر الوہیت میں گم ہو جاتے ہیں اور اپنی محبت اور پیار کی نرالی زبان استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے جسکا مقصود مشرک نہیں صرف والہانہ رنگ میں فنائیت تامہ ہیں کا اظہار ہوتا ہے بین اتنے پہ ہوا ہنگامہ دار د رسن بریا کہ کیوں آغوش میں لے آئینہ مہر و وشاں کو اور ان کا کمال روحانی یہ ہے کہ وہ مجاہدات اور فروتنی اور عاجزی کے ساتھ اپنے دل کو ایسا مصفی اور شفاف بنالیتے ہیں کہ ان میں عرش کے خدا کا عکس نظر آنے لگتا ہے جس کے بعد