جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 60
الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْمَعَارِقِ وَالْعُلُومِ وَالْحَقِيقَةِ تَكُونُ جَمِيعِ الأَنْبِيَاءِ وَالْاَوْلِيَاءِ تَابِعِيْن لَهُ كُلَّهُمْ وَلاَ يُنَا قِصٌ مَا ذكرناه لِاَنَّ بَاطِنَهُ بَاطِنُ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم - اشرح فصوص الحکم مطبوعہ مصرحت (۳) یعنی مہدی جو آخری زمانہ میں آئے گا وہ احکام شرعیہ میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوگا اور معارف علوم اور حقیقت میں تمام انبیاء اور اولیاء سب اس کے تابع ہوں گے کیونکہ مہدی موعود کا باطن محمد رسول اللہ کا باطن ہوگا۔اسی طرح امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ تحریر فرماتے ہیں۔يَزُعم العَامَّةُ أنَّهُ إِذَا نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ كَانَ وَاحِدًا مِنَ الأُمَّةِ كَلَّا بَلْ هُوَ شَرْحُ لِلْإِسْمِ الجَامِعِ الْمُحَمَّدِى وسُخَةٌ مُنْتَسَحَةٌ مِنْهُ - " ( الخير الكثير) عوام سمجھتے ہیں کہ مسیح محمد می جب زمین پر نزول فرما ہوگا تو وہ محض ایک امتی ہو گا بلکہ وہ تو اسم جامع محمدی کی پوری تشریح اور اس کا دوسرا المنتخہ ہو گا۔یہ ہے بروز محمد شی کا عارفانہ تخیل جس کی بنیاد قرآن وسنت اور بزرگانِ امت کے الہامی ارشادات پر ہے اور بیہ حقیقت ہے کہ گزشتہ چودہ صدیوں میں کسی نے الہا یا اس کے مصداق ہونے کا دعوئی نہیں کیا تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی حقانیت میں کیا شبہ رہ