جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 30
مشہور کتاب ”تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک سید تھے جن کو ناصری کہتے تھے۔ان کا ارادہ حج کا ہوا۔جب بغداد پہنچے تو حضرت جنید بغدادی کی زیارت کو گئے۔آپ کی عارفانہ باتوں کو سن کر رونے لگے اور عرض کیا میرا حج نہیں ہے مجھے خدا کی راہ بتا دیجئیے حضرت جنید نے فرمایا تمہارا یہ سینہ خدا کا حرم خاص ہے۔کسی نامحرم کو جگہ نہ دو۔سے شده : ایک بزرگ مشہور تابعی اور صوفی مرتاض حضرت ابو حازم مکی کی خدمت میں حج کا عزم کرکے پہنچے۔دیکھا کہ آپ سو رہے ہیں۔بیدار ہوئے تو فرمایا اس وقت میں نے پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے۔حضور نے مجھے تمہیں یہ پیغام پہنچانے کا حکم دیا ہے کہ اپنی ماں کے حق کا خیال کرد تمہارے لئے یہ حج کرنے سے بہتر ہے۔لوٹ جاؤ اور اُن کے دل کی رضا طلب کرو۔چنانچہ وہ حج کرنے کی بجائے واپس لوٹ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :- " مَنْ تَضى لأخَيْه الْمُسْلِمِ حَاجَةً كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْر كَمَنْ حَةٌ ، جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے اُسے حج کا ثواب ملتا ہے۔ایضاً صفحه ۳۲۸ له جامع الصغير للسيوطى " جلد علا صفي ۲ ۱۷۸