حضرت عائشہ صدیقہ ؓ

by Other Authors

Page 23 of 29

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ — Page 23

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ 23 صلى الله حضور علیہ نے جب حضرت عائشہ کے منہ سے یہ شعر سنے تو آپ فرماتی ہیں کہ جو کچھ آپ کے ہاتھ میں تھا وہ رکھ دیا۔میری پیشانی کو بوسہ دیا اور فرمایا: مَا سُرِرُتِ مِنّى كَسَرُورِى مِنْكِ تو مجھ سے اتنا خوش نہیں ہوئی جتنا میں تجھ سے خوش ہوا ہوں آپ حضور میلے کی وفات کے بعد قریباً 60 سال زندہ ر ہیں لیکن جو پاکیزہ زندگی آپ نے حضور ﷺ کے ساتھ گزاری وہ ایک خوبصورت یاد بن کر آپ کے ساتھ ساتھ رہی اور اس کا شکر آپ اس طرح ادا کرتی ر ہیں کہ حضور کے واقعات کثرت سے بیان فرماتی رہیں۔حضور ملنے کے خلفاء بھی اُم المؤمنین کا احترام کرتے اور آپ سے فیض حاصل کرتے رہے۔حضرت عمرہ کا طریق یہ تھا کہ جب کوئی خاص تحفہ آتا حضرت عائشہ کو بھجوایا کرتے۔جب اسیران فتح ہوا تو وہاں سے آٹا پینے والی چکیاں لائی گئیں۔حضرت عمر نے حکم دیا کہ پہلا پسا ہوا آنا حضرت عائشہ کو پیش کیا جائے۔چنانچہ وہ بار یک میدہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ملازمہ نے گوندھ کر بار یک پھلکے تیار کئے۔بچو المدینہ کی عورتیں جنہوں نے پہلی بار ایسا پسا ہوا آٹا دیکھا تھا حضرت عائشہ کے گھر جمع ہو گئیں۔جب روٹی تیار ہوگئی تو