ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 9
14 13 نومبر 1952ء میں مجھے پاکستان آنے کی اجازت ملی۔میرے پہنچنے سے پہلے میری دوسری بیوی ہمارے ہاں ساہیوال پہنچ چکی تھیں۔لمبا عرصہ بیرون ملک رہنے کی وجہ سے میری صحت کافی خراب ہو چکی تھی۔میں شادی کے موڈ میں نہیں تھا۔لیکن ابا جان نے خود ہی 24 نومبر کی تاریخ مقرر فرما دی۔شادی کے لئے کسی کو مدعو نہیں کیا گیا۔دلہن کے والدین کو بھی اس تاریخ سے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔حتی کہ جماعت ساہیوال کے کسی فرد کو اس کا علم نہیں تھا۔24 تاریخ کو والدین نے ہم دونوں کو ایک کوٹھڑی میں بند کر دیا۔اور شادی ہوگئی۔بعد میں بذریعہ خط دلہن کے والدین کو اطلاع دے دی گئی کہ آپ کی بیٹی بیاہی گئی ہے۔حضور کے فیصلے کے مطابق دونوں بیویوں کو افریقہ بھجوانا تھا۔ان کے پاسپورٹ بنوائے گئے۔اور اپریل 53ء میں عزیز مبارک احمد اور دونوں بیویوں کو ساتھ لے کر میں واپس نیر و بی پہنچ گیا۔چند ماہ نیروبی ٹھہرنے کے بعد ہمیں صوبہ نیا زا بھجوادیا گیا۔چونکہ کسوموں شہر میں جماعت کی ایک عبادت گاہ "بیت محمود " مکرم محمد اکرم خاں صاحب غوری نے اپنے خرچ پر تعمیر کروا دی تھی۔اور دارالجماعۃ بھی تعمیر ہونے والا تھا۔اس لئے چند ماہ ادھر ادھر رہائش کے بعد ہم مشن ہاؤس میں منتقل ہو گئے۔1955ء میں مجھے جماعتی کاموں کے لئے نیروبی بلوایا گیا۔چند ہی روز گزرے تھے کہ جناب غوری صاحب نے فون پر مجھے دوسری بیوی سے بچی کی ولادت کی خوشخبری سنائی۔لیکن نیروبی میں ابھی کام ختم نہیں ہو پایا تھا۔اس لئے مزید ایک ہفتہ قیام کر کے مجھے کسوموں واپس جانے کی اجازت مل گئی۔صوبہ نیا نزا میں تین سال کام کرنے کے بعد ہماری تبدیلی نیروبی ہوگئی۔کرائے کے مکانوں میں رہائش رہی۔لیکن نیروبی کی آب و ہوا والدہ مبارک احمد کو راس نہ آئی۔انہیں دمہ کی سخت تکلیف شروع ہو گئی۔کسی علاج سے صحت حاصل نہ ہو سکی۔آخر ڈاکٹر نے تبدیلی آب و ہوا کا مشورہ دیا۔میں انہیں ایک ماہ کے لئے ساحلی شہر ممباسہ لے گیا۔وہاں جاتے ہی ان کی صحت ٹھیک ہوگئی۔ایک مہینہ کے بعد جب واپس نیر و بی آئے تو نیروبی ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے ہی انہیں پھر دمہ کا عارضہ شروع ہو گیا۔میری دوسری بیوی دن رات ان کی دیکھ بھال میں لگی رہتیں۔اور مجھے دینی کام کرنے کے لئے کافی وقت مل جاتا۔اگست 58ء میں مجھے دوماہ کے لئے کینیا سے باہر جانے کا حکم ملا۔اس کے لئے میں بخوشی تیار ہو گیا۔کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میری غیر حاضری میں بھی دونوں بیویاں حسب معمول ایک دوسری کا بھی اور بچوں کا بھی عمدگی سے خیال رکھیں گی۔فی الحقیقت ایسا ہی ہوا، جب میں شمالی روڈ یشیا ( موجودہ زیمبیا ) اور نیا سالینڈ ( موجودہ ملاوی ) کا دورہ مکمل کر کے واپس نیروبی پہنچا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے سب کو امن وسکون سے رہتے ہوئے پایا۔60 کے اواخر میں ہم پاکستان واپس لوٹے۔ربوہ میں تحریک جدید کے پاس کوئی کوارٹر خالی نہیں تھا۔حضرت منشی محمد حیات خاں صاحب محلہ دارالیمن میں مقیم تھے۔مبارک احمد اور ان کی والدہ کو وہاں چھوڑا اور دوسری بیوی کو ان کے میکے پہنچا آیا۔میں خود کبھی ربوہ اور بھی سرائے سدھو آتا جاتا رہا۔حتی کہ ایک دن برادرم مکرم مولانا غلام باری سیف صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کے محلہ فیکٹری ایریا میں ایک مکان برائے فروخت ہے۔پانچ مرلہ زمین پر تعمیر شدہ ہے۔گھر والوں سے مشورہ کے بعد اور ابا جان سے کچھ رقم حاصل کرنے کے بعد مکان کا سودا ہو گیا۔میں محترم سیف صاحب کا جو میرے ہم جماعت اور بڑے محبت کرنے والے ہیں، کا ہمیشہ ممنون رہا ہوں کہ انہوں نے اس محلہ میں مجھے چھوٹا سا گھر دلوا کر صاحب جائیداد بنا دیا۔اللہ تعالیٰ انہیں دونوں جہانوں میں اجر عظیم عطا فرمائے۔61ء میں بچوں کو ربوہ چھوڑ کر واپس کینیا چلا گیا۔وہاں سے مجھے ٹا نگانیکا مشن کا انچارج بنا کر دار السلام بھجوا دیا گیا۔اور ہر مشن براہ راست مرکز ربوہ کے سامنے جوابدہ بن گیا۔میری غیر حاضری میں بھی میری دونوں بیویوں کا باہم معاملہ غیر معمولی طور پر قابل تعریف رہا۔کبھی جھگڑے کی نوبت نہ آئی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ صرف میں ہی واقف زندگی نہ تھا۔میری دونوں بیویاں بھی عملاً اپنے آپ کو دینی خدمت کے لئے وقف کر چکی تھیں۔ان کی ہمیشہ