ایک نیک بی بی کی یاد میں

by Other Authors

Page 8 of 14

ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 8

12 11 بوڑھے پاکستان کے لئے روانہ ہو گئے۔میری والدہ محترمہ، بیوی اور ہونے والی بیوی بھی اپنے وطن مانتان چلے گئے۔ابا جان اور میں قادیان رہ گئے۔تھوڑے دنوں کے بعد ابا جان کو بھی محکمہ ڈاک خانہ جات نے بلا لیا۔اور میں درویش قادیان بننے کے لئے قادیان میں رک گیا۔تھوڑے دنوں کے بعد مجھے حکم ملا کہ پاکستان سے باہر جانے کے لئے لاہور چلا جاؤں۔چنانچہ وسط نومبر 47ء میں جو آخری قافلہ قادیان سے لاہور گیا میں اس میں شامل ہو گیا۔میرا قیام لاہور میں تھا۔بیوی ملتان شہر میں تھی۔حضرت دادا جان والدہ محترمہ اور دوسرے رشتہ دار گاؤں میں تھے۔ابا جان بصیر پور ضلع منٹگمری میں ملازمت پر تھے۔اس اثناء میں وکالت تبشیر کی طرف سے ارشاد ملا کہ یکم جنوری 1848ء کو افریقہ کے لئے روانہ ہونا ہے۔جماعت کی حالت نہایت بے سروسامانی کی تھی۔اس کے باوجود ہمارے پیارے اولوالعزم آقا نے پانچ مربیوں کا قافلہ حسب پروگرام یکم جنوری 1948ء کو پر سوز دعا کے ساتھ لاہور ( رتن باغ) سے روانہ فرمایا۔تین مغربی افریقہ کے لئے اور دو مشرقی افریقہ کے لئے۔چونکہ جہازوں کا ملنا مشکل تھا۔اس لئے سیٹیں بھی بک نہ کرائی گئیں۔اور ہمیں حکم ہوا کہ کراچی پہنچ کر خود انتظام کریں۔ہم نے اپنی وکالت کو بتا دیا تھا کہ ہمیں اپنے عزیزوں سے بھی ملنا ہے۔اس کے بعد کراچی جانا ہوگا۔مکرم مولانا عبدالکریم صاحب شرما اور خاکسار نے مشرقی افریقہ جانا تھا۔ہم نے مشورہ کیا کہ ملتان اسٹیشن پر اتر کر اپنے رشتہ داروں سے مل کر جلد از جلد آگے روانہ ہو جا ئیں گے۔خاکسار کے سسرال محلہ کوٹلہ تو لے خاں میں مقیم تھے۔میری بیوی بھی وہیں تھیں۔ایک رات وہاں گزاری اور وہی ملاپ بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری کے آثار کے ظہور کا موجب بن گیا۔اگلے روز میں گاؤں روانہ ہو گیا۔اور سب رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد براستہ ملتان کراچی چلا گیا۔کراچی سے ہمیں مارچ میں ایک بحری جہاز میں جگہ ملی۔مگر وہ ہمیں بمبئی پہنچا کر واپس چلا آیا۔بمبئی میں ایک ہفتہ قیام کے بعد ہمیں دوسرا جہاز ملا جو مولا نا شر ما صاحب اور خاکسار کو مشرقی افریقہ لے گیا۔مولانا شر ما صاحب کو ٹا نگانیکا اور مجھے کینیا جانا تھا۔یکم اپریل 1948ء کو میں نیروبی پہنچا۔اور چند روز وہاں ٹھہرنے کے بعد مجھے صوبہ نیا ز ا میں تعینات کر دیا گیا۔صوبہ نیا ز میں میرا قیام لواندا (LUANDA) میں تھا۔وہاں اور بھی کئی مربی صاحبان موجود تھے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے خوب دل لگا کر کام کرنے کی توفیق پائی۔وہیں مجھے ابا جان کا خط ملا کہ آپ کی بیوی کی طبیعت ملتان میں خراب رہتی تھی۔اس لئے انہیں ہم اپنے پاس بصیر پور لے آئے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے اپنا ایک خواب لکھا کہ محترم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب ہمارے ہاں آئے ہیں اور مٹھائی تقسیم ہو رہی ہے۔اس کی تعبیر بھی انہوں نے لکھ دی کہ آپ کے ہاں بیٹا ہوگا اور اس کا نام مبارک احمد رکھیں گے۔ابھی لوانڈا ہی میں تھا کہ 7 اکتوبر 48ء کو عزیز مبارک احمد کی پیدائش کی خوشخبری مل گئی۔لیکن میں نے عزیز کو اس وقت دیکھا جب اس کی عمر قریباً چار سال ہو چکی تھی۔اس وقت (یعنی 1952ء میں ) ابا جان منٹگمری ( موجودہ ساہیوال) میں مقیم تھے۔1950ء میں ابا جان نے مطلع فرمایا کہ میرے چچا ( ان کے چھوٹے بھائی) نے لکھا ہے کہ ان کی بیٹی شادی کے قابل ہو گئی ہے۔ان کی خواہش ہے کہ اعلان نکاح کر دیا جائے۔میں نے جوا با عرض کیا میں تو واقف زندگی ہوں۔اپنے بارے میں میں کچھ فیصلہ نہیں کر سکتا۔پھر دوسری شادی کی حاجت بھی نہیں۔بیوی اور بچہ موجود ہے۔اس لئے اگر آپ ضروری سمجھیں تو حضور کی خدمت میں معاملہ پیش کر دیں۔حضور نے رشتہ کرنے کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی شرط لگائی کہ دونوں بیویوں کو افریقہ بھیجنا ہوگا۔جب وکالت تبشیر کی طرف سے مجھے اس مضمون کا خط ملا۔تو طبعی طور پر پریشانی ہوئی لیکن مرتا کیا نہ کرتا۔میں نے ابا جان کو وکالت نامہ بھجوادیا کہ وہ میری طرف سے رضا مندی کا اعلان کر دیں۔چا جان نے خود ہی نکاح کا اعلان کر دیا اور مجھے اطلاع بھجوادی گئی۔