ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 26
ہیں کہ مثلاً علم طب سراسر باطل ہے اورحکیم حقیقی نے دعاؤں میں کچھ بھی اثر نہیں رکها به پھر اگر سید صاحب با وجود ایمان با تقدیر کے اس بات کے بھی قائل ہیں کہ دوائیں بھی اثر سے خالی نہیں تو پھر کیوں خدا تعالیٰ کے کیساں اور متشابہ قانون میں فتنہ اور تفریق ڈالتے ہیں ؟ کیا سید صاحب کا یہ مذہب ہے کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ تریک اور سقمونیا اور سناء اور حب الملوک میں تو ایسا فوری اثر رکھ دے کہ ان کی پوری خوراک کھانے کے ساتھ ہی دست چھوٹ جائیں یا مثلا سم الفار اور بنیں اور دوسری ہلاہل زہروں میں وہ غضب کی تاثیر ڈال دی کہ ان کا کامل قدر شربت چند منٹوں میں ہی اس جہاں سے رخصت کر دے لیکن اپنے برگزیدوں کی توجہ اور عقد ہمت اور تضرع کی بھری ہوئی دعاؤں کو فقط مردہ کی طرح رہنے دے جن میں ایک ذرہ بھی اثر نہ ہو ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ نظام الہی میں اختلاف ہو اور وہ ارادہ جو خدا تعالیٰ نے دواؤں میں اپنے بندوں کی بھلائی کے لیے کیا تھا وہ دعاؤں میں مرغی نہ ہو ؟ نہیں نہیں ! ہرگزنہ نہیں ! بلکہ خود سید صاحب دعاؤں کی حقیقی فلاسفی سے بے خبر ہیں اور ان کی اعلی تاثیروں پر ذاتی تجربہ نہیں رکھتے اور ان کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی ایک مدت تک ایک پرانی اور سال خوردہ اور مسلوب القومی دوا کو استعمال کرے اور پھر اس کو بے اثر پا کر اس دوا پر عام حکم لگا دے کہ اس میں کچھ بھی برکات الدعا صفحه ۷-۸ ) تاثیر نہیں "