احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 54 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 54

لیمی پاکٹ بک 54 حصہ اول اوّل۔عِلم کے معنی نشان کئے گئے ہیں حالانکہ اس کے لئے علم استعمال ہوتا ہے۔دوم اگر بالفرض مجازاً عِلْمٌ بمعنی عَلَم ہو اور حضرت مسیح کے آخری زمانہ میں دوبارہ آنے کو نشان قرار دینا مقصود ہوتا تو پھر فقرہ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا ان معنوں سے مناسبت نہیں رکھتا۔اس کے تو یہ معنی ہوئے کہ نشان تو ابھی دکھایا نہیں اور زور یہ دیا جا رہا ہے کہ چونکہ حضرت مسیح قیامت کا نشان ہے اس لئے قیامت کا ابھی یقین کرلو۔ی محض محکم کی راہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے مناسب نہیں لہذا یہ معنی باطل ہیں۔سوم۔اگر بالفرض ان کی ضمیر کا مرجع حضرت مسیح ہوں تو ان کی تعلیم کو ان کے زمانہ کے لوگوں کے لئے بلکہ بعد والوں کے لئے بھی جو حضرت مسیح پر ایمان لے آئیں قیامت کے علم کا موجب قرار دیا گیا ہے لہذا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دوسرے لوگوں کو بھی یہ تلقین کی گئی ہے کہ دیکھو مجھ سے پہلا نبی بھی قیامت کی تعلیم دیتارہا اس لئے تم قیامت میں شک نہ کرو۔اس صورت میں علم جو مصدر ہے بطور مبالغہ حضرت مسیح کے لئے بطور وصف سمجھا جائے گا جیسے کہتے ہیں زَيْدٌ عَدْلٌ یعنی زید بڑا عادل ہے۔چهارم۔اَلسَّاعَةُ سے مراد نبیوں کے منکرین پر عذاب کی گھڑی بھی ہوتی ہے اگر ان کی ضمیر کا مرجع حضرت مسیح ہوں تو اس صورت میں یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ حضرت مسیح کی ولادت بنی اسرائیل کے لئے موعود عذاب کا نشان تھی اور اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور آپ کے منکرین کے لئے بھی موعود عذاب کا نشان ہوگا۔اس لئے آپ کے منکرین کو اپنے زمانہ میں آنے والی عذاب کی گھڑی پر یقین رکھنا چاہئے اور اس عذاب کی گھڑی کے آنے میں کسی کو شک نہیں کرنا چاہئے۔پس ان تو جیہات میں سے کسی توجیہ میں بھی حضرت عیسی کی جسمانی حیات