احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 44
تعلیمی پاکٹ بک 44 حصہ اول خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح کے رفع الی اللہ کی تعبیر رفع الی السماء کرنے سے بھی ان کا رفع جسمی ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ رفع کا فاعل خدا ہے اور خدا تعالیٰ کے رفع دینے سے مراد رفع جسمی نہیں ہوتی بلکہ رفع روحانی ہی ہوتی ہے۔مولوی ابراہیم صاحب کے استدلال کا ابطال مولوی صاحب شہادۃ القرآن صفحہ 166 پر لکھتے ہیں: د قتل وصاب کے قابل جسم ہے نہ روح اس لئے مزعوم یہود قتل جسد ہوا نه قتل روح - بنابر آن وَمَا صَلَبُوهُ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْناً میں نفی قتل وصلب جسم ہی سے کی گئی ہے پس چونکہ جملہ ضمائر منصوب و متصل جو افعال منفیه وفعل مثبت کے ساتھ ہیں یعنی جو وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ اور وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَاً بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں واقع ہیں ان سب کا مرجع امسیح ہے اس لئے لا محالہ جد مسیح مرفوع ماننا پڑے گا بنا بر اتحاد مرجع۔66 مولوی صاحب کی یہ بحث نہایت کمزور ہے قتل اور صلب کے فعل سے صرف جسم ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ روح بھی متاثر ہوتی ہے لیکن رفع کا فعل جب خدا اس کا فاعل ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے رفع درجات کا مفہوم رکھتا ہے خواہ رفع درجات زندگی میں ہو یا بعد از ممات اور رفع درجات کا تعلق روح کی رفعت سے ہے نہ جسم سے۔پس مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کی ضمائر کا مرجع خالی مسیح کا جسم نہیں کیونکہ قتل اور صاب محض ایسے جسم پر وارد نہیں ہوسکتا جس میں روح موجود نہ ہو بلکہ ان کا اطلاق زندہ انسان (جو مجموعہ روح و جسم ہے) کے مارے جانے پر ہوتا ہے جس