احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 531
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 531 حصہ دوم اظہار نہیں ہوتا۔کیونکہ محدث کے معنی اظہار ا مرغیب نہیں بلکہ نبی کے لفظ سے ہی آپ کی پوری شان کا اظہار ہوتا ہے۔اس زمانہ میں آپ پر منکشف ہو گیا کہ آپ کو محدث خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں معنوں میں قرار دیا گیا تھا۔جن معنوں میں ہر نبی محدث ہوتا ہے۔یعنی خدا کی ہمکلامی کا شرف رکھنے والا ، چنانچہ حمامۃ البشریٰ میں آپ نے صاف یہ لکھا تھا:۔اس بات کا کہنا جائز ہے کہ نبی علی وجہ الکمال محدث ہے۔اسی طرح جائز ہے کہ ہم کہیں محدث استعداد باطنی کی وجہ سے نبی ہے کیونکہ محدث بالقوہ نبی ہے اور کمالات نبوت سب محدثیت میں مخفی اور مضمر ہوتے ہیں“۔( ترجمه عربی عبارت حمامة البشری روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 300) پس اس تبدیلی عقیدہ کے بعد بھی آپ آپ کو محدث علی وجہ الکمال کہنا جائز ہے۔البتہ آپ کی نبوت کو محد ثیت تک محدود رکھنا جائز نہیں۔پس یہ تبدیلی جو واقع ہوئی ہے یہ بھی خدا تعالیٰ سے صریح طور پر نبی کا خطاب پانے کے انکشاف کے باعث ہے۔لہذا آپ کے کلام میں کوئی حقیقی اور معنوی تناقض موجود نہیں۔صرف ایک تاویل کا لفظی اختلاف پایا جاتا ہے۔اسی لئے آپ نے ایک اشتہار ایک غلطی کے ازالہ میں یہ بھی تحریر فرمایا :۔جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔بلکہ انہی معنوں سے