احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 520
یتعلیمی پاکٹ بک 520 حصہ دوم حیات مسیح کا رسمی عقیدہ اور دعویٰ مسیح موعود اعتراض چہارم براہین احمدیہ کے پہلے حصوں کے صفحہ 498 پر مرزا صاحب نے حضرت مسیح علیہ السلام کی دوبارہ اصالتا آمد تسلیم کی۔لیکن بعد میں ان کی وفات کے قائل ہو گئے اور خود مسیح موعود کا دعویٰ کر دیا۔جیسا کہ فتح اسلام اور ازالہ اوہام وغیرہ سے ظاہر ہے۔الجواب ان دونوں قسم کی عبارتوں میں اس وجہ سے تناقض قرار نہیں دیا جا سکتا کہ پہلا عقیدہ آپ کا رسمی تھا اور دوسرا عقیدہ آپ نے وحی الہی کے ماتحت اختیار کیا جس میں آپ کو خبر دی گئی کہ:۔و مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔وَكَانَ وَعْدُ اللهِ مَفْعُولًا “۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 402) اس الہام نے آپ پر کھول دیا کہ آپ ہی امت محمدیہ کے مسیح موعود ہیں۔ور نہ مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ تو آپ کا اُسی جگہ براہین احمدیہ میں موجود تھا۔دونوں عقیدوں میں تناقض تب قرار دیا جاسکتا ہے اگر آپ کی عبارتوں میں ٹکراؤ ہوتا مگر پہلے عقیدے میں تبدیلی تو آپ نے الہام سے کی۔حدیث نبوی میں وارد ہے:۔كَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيْمَالَمُ يُؤْمَرُبِهِ - کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کے عقیدہ اور عمل سے موافقت پسند کرتے تھے۔ان امور میں جن میں وحی نہ ہوئی ہوتی۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وحی