احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 510 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 510

احمدی تعلیمی پاکٹ بک 510 حصہ دوم طرف سے کسی مدعی مہدویت کا دعوی اس کی اپنی کتاب سے دکھایا جاتا۔پھر یہ دکھایا جاتا کہ اس کے دعوی کے بعد رمضان میں چاند اور سورج کو انہی تاریخوں میں گرہن لگا تھا۔اور اس مدعی نے اسے اپنے لئے بطور نشان پیش کیا تھا۔حدیث دارقطنی کے الفاظ :۔إِنَّ لِمَهْدِيَّنَا آيَتَيْنِ “ میں لَام إِفَادَہ کا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ مہدی ان دونوں نشانوں سے فائدہ اٹھائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام چشمہ معرفت کے صفحہ 315،314 کے حاشیہ میں اس کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔ہمیں اس بات سے بحث نہیں کہ ان تاریخوں میں کسوف و خسوف رمضان کے مہینہ میں ابتدائے دنیا سے آج تک کتنی مرتبہ واقع ہوا ہے۔ہمارا مد عاصرف اس قدر ہے کہ جب سے نسلِ انسانی دنیا میں آئی ہے نشان کے طور یہ خسوف کسوف صرف میرے زمانہ میں میرے لئے واقع ہوا ہے اور مجھ سے پریہ پہلے کسی کو یہ اتفاق نصیب نہیں ہوا کہ ایک طرف تو اس نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور دوسری طرف اس کے دعوی کے بعد رمضان کے مہینہ میں مقررہ تاریخوں میں خسوف کسوف بھی واقع ہو گیا ہو اور اس نے اس خسوف کسوف کو اپنے لئے ایک نشان ٹھہرایا ہو۔(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 329 ، 330 حاشیہ ) آگے چل کر لکھتے ہیں:۔پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ پہلے بھی کئی دفعہ خسوف کسوف ہو چکا ہے۔اس کے ذمہ یہ بار ثبوت ہے کہ وہ ایسے مدعی مہدویت کا پتہ دے جس نے اس کسوف خسوف کو اپنے لئے نشان ٹھہرایا ہو۔اور یہ ثبوت یقینی اور قطعی چاہیے۔اور یہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ ایسے مدعی کی کوئی کتاب پیش کی