احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 491
ندی علیمی پاکٹ بک 491 حصہ دوم کہ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں بلکہ سنت اللہ کے مطابق فیصلہ چاہا گیا تھا۔اور سنت اللہ میں فیصلہ کن طریق مباہلہ ہی ہوسکتا ہے۔لہذا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر اس تحریر کو یکطرفہ دعا قرار دینا انصاف کا خون کرنا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگی میں اسی سلسلہ میں ایک سوال کے جواب میں لکھا:۔یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مرجاتا ہے۔۔۔کیا آنحضرت صلعم کے سب اعداء ان کی زندگی میں ہی ہلاک ہوگئے تھے؟ بلکہ ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے۔ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا بچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے۔ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے ہم تو ایسی باتیں سن کر حیران ہوتے ہیں۔دیکھو ہماری باتوں کو کیسے اُلٹ پلٹ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔اور تحریف کرنے میں وہ کمال حاصل کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں۔کیا یہ کسی نبی ، ولی، قطب،غوث کے زمانہ میں ہوا کہ اس کے سب اعداء مر گئے ہوں بلکہ کافر منافق باقی رہ ہی گئے تھے۔ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ بچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ بچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوتے ہیں۔ایسے اعتراض کرنے والے سے پوچھیں کہ یہ ہم نے کہاں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کرنے کے ہی جھوٹے بچے کی زندگی میں تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔وہ جگہ تو نکالو۔جہاں یہ لکھا ہے“۔(الحام 10 اکتوبر 1907 ، صفحہ 9) یہ عبارت مولوی ثناء اللہ صاحب کے نام 15 اپریل 1907ء کے خط سے بعد کے زمانہ کی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس صرف مباہلہ واقعہ ہونے کی حالت میں کاذب کا صادق کی زندگی میں مرنا ضروری قرار دیتے ہیں۔ورنہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو یہ حقیقت مسلّم ہے کہ صادق کے وفات