احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 487
487 حصہ دوم ندی علیمی پاکٹ بک اور انہوں نے ان تہمتوں اور بد زبانیوں میں آیت لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرائیل :37) پر بھی عمل نہیں کیا۔اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا۔اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دوکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہیں تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے، اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتیجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اُٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین۔رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَرِحِينَ۔(الاعراف: 90) آمین۔بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اسکے نیچے لکھ دیں۔اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ـراق عبد اللہ الصمد میرزا غلام احمد امسیح الموعود عافاه الله واید - مرقوم تاریخ 15 اپریل 1907 ء مطابق یکم ربیع الاول 1325 ہجری روز دوشنبه ( مجموعہ اشتہارات جلد 2، صفحہ 705 ، 706) (ملاحظہ ہو اہلحدیث 26 اپریل 1907 صفحہ 4-5)