احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 468 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 468

ی علیمی پاکٹ بک 468 حصہ دوم اور مصلحت چاہتی ہے کہ اپنے نبیوں اور ماموروں کو ایسی اعلیٰ قوم اور خاندان اور ذاتی نیک چال چلن کے ساتھ بھیجے تا کہ کوئی دل ان کی اطاعت سے کراہت نہ کرے۔یہی وجہ ہے جو تمام نبی علیہم السلام اعلیٰ قوم اور خاندان میں سے آتے رہے ہیں۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 280-281) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چوہڑوں اور چماروں کا نبی بنا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت اور قدیم قانون اور سنت الہی کے خلاف قرار دیا ہے۔اور اس جگہ جو امکان بیان ہوا ہے۔وہ صرف امکانِ عقلی ہے جس میں خدا کی صفت قدرت کو مد نظر رکھا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ قادر کی قدرت کے آگے تو یہ ممکن ہے کہ وہ کسی چوہڑے اور چمار کو نبی بنا سکے لیکن چونکہ خدا حکیم بھی ہے۔اس لئے اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ نبی ہمیشہ اعلیٰ خاندان سے بنائے جائیں تا ان لوگوں کو ان کے احماء کے قبول کرنے میں کراہت نہ ہو اور یہی اسکی سنتِ جاریہ رہی ہے۔پس اس عبارت سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی حکمت کے تقاضا کے لحاظ سے کسی چوہڑے چمار کا نبی بننا اس کی سنت کے خلاف ہے۔امکان صرف عقلی بیان ہوا ہے نہ کہ عادی۔پس آدھی عبارت لے لینا اور باقی عبارت کو چھوڑ دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآنی آیت کا ٹکڑا لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ “ کو تو لے لے اور آگے وَاَنْتُمْ سُکری کو چھوڑ دے اور کہے کہ قرآن میں لکھا ہے 66 کہ نماز کے قریب بھی نہ جاؤ۔حالانکہ وہاں تو یہ لکھا ہوا ہے کہ سکر کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ۔