احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 461
اعتراض نمبر 8 461 مالیخولیا مراقی کے اعتراض کی تردید حصہ دوم مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں مراق تھا۔لہذا اُن کے دعاوی، مالیخولیا کا نتیجہ تھے؟ الجواب :۔انبیاء کو پہلے بھی لوگ مجنون کہتے رہے ہیں۔چنانچہ منکرین یہ کہتے آئے ہیں:۔أَبِنَّا لَتَارِكُوا الِهَتِنَا لِشَاعِ مَجْنُونٍ (الصافات: 37) ترجمہ: ” کیا ہم ایک شاعر مجنون کے لئے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دیوانہ کہا گیا تو خدا تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا:۔نَ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونِ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ - فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ بِأَيْكُمُ الْمَفْتُونَ۔(القلم : 2 تا 7) ترجمہ :۔دوات اور قلم اور جو کچھ لکھ رہے ہیں۔وہ شاہد ہیں کہ تو اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں اور تجھے خدا کی طرف سے ایسا بدلہ ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا اور تو نہایت اعلیٰ اخلاق پر قائم ہے۔پس جلدی ہی تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔( یعنی کس کو خدا کی مددلتی ہے اور کون خدا کی نصرت سے محروم رہتا ہے) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر جگہ اپنی دو بیماریوں کا ذکر فرمایا ہے۔جن میں سے ایک دورانِ سر اور دوسری کثرت بول کی بیماری ہے۔اور مالیخولیا مراقی کی بیماری سے جو صریح طور پر جنون کی ایک قسم ہے، آپ نے صریح انکار کیا ہے۔ڈائری میں جو مراق کا لفظ آیا ہے۔اس سے مراد مالیخولیا مراقی نہیں بلکہ