احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 379 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 379

379 حصہ دوم احمدیہ علیمی پاکٹ بک تو پھر سنت نبوی کے مطابق وہاں سے ہجرت ضروری ہو جاتی ہے نہ کہ قتال۔ہجرت کرنے کے بعد اگر دشمن حملہ آور ہو۔تو پھر اس کا مقابلہ بوجہ مظلومیت کرنا ضروری ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں زندگی بسر کر رہے تھے۔جب دشمن نے آپ کے ماننے والوں کو جبر امذ ہب چھوڑنے پر مجبور کرنا چاہا تو آپ نے مسلمانوں کو ہجرت کرنے کا حکم دیا۔مگر خود اس وقت تک ہجرت نہ فرمائی جب تک دشمن نے آپ کے قتل کا منصوبہ نہ کیا۔جب عربوں نے آپ کے اعدام کا فیصلہ کیا۔تو خدائی حکم کے ماتحت اس وقت آپ نے ہجرت فرمائی۔قرآن کریم کی ہدایت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہی امور ثابت ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام کو حبشہ میں ہجرت کرنے کی ہدایت فرمائی تھی جہاں کا بادشاہ عیسائی تھا۔انہیں یہ ہدایت نہیں دی تھی کہ وہ جا کر اس بادشاہ سے جنگ کریں بلکہ اس امید پر انہیں بھیجا تھا کہ وہ بادشاہ انہیں امن دے گا اور یہ مسلمان وہاں مستاً من کی حیثیت سے رہیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ملکی حکم کے احترام کی اتنی اہمیت تھی کہ جب آپ نے مکہ کے مشرکین کی اسلام کی طرف سے لا پرواہی دیکھی۔اور آپ نے طائف میں جا کر پیغامِ حق سنایا اور انہوں نے مکہ والوں سے بھی بڑھ کر آپ سے وحشیانہ سلوک کیا تو آپ نے مکہ واپس آنا چاہا۔لیکن مکہ کی حکومت نے آپ سے شہریت کے حقوق غصب کر لیے اور آپ کو داخلہ کی اجازت نہ دی۔تو آپ نے ظالم حکومت کے اس علاقائی قانون کو توڑا نہیں۔بلکہ ایک مشرک حاتم بن عدی کی حمایت سے آپ مکہ میں داخل ہوئے اور اس کی وساطت سے آپ نے مکہ کی شہریت کے حقوق پھر سے حاصل کئے اور مکہ والوں نے جب آپ کے قتل کا منصوبہ کیا۔تو پھر آپ مدینہ کی طرف ہجرت فرما گئے۔آپ کی یہ سنت اس بات کی روشن