احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 367
ند یتعلیمی پاکٹ بک 367 حصہ دوم پہلی عبارت میں مخالفین کو ذرية البغایا یعنی کنجریوں کی اولا د کہا ہے۔اور دوسری عبارت میں اپنے مخالفین کو سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں سے بدتر کہا ہے؟ الجواب:۔(الف) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547-548 کی عبارت میں دراصل ایک پیشگوئی ہے۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ سارے مسلمان مجھے قبول کر لیں گے۔سوائے ذریۃ البغایا کے“۔جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى أَشْرَارِ النَّاسِ “ یعنی قیامت صرف شریر لوگوں پر ہی قائم ہوگی۔گویا نیک لوگ اس سے پہلے اُٹھا لیے جائیں گے۔جب آپ نے یہ فقرہ لکھا۔اس وقت بہت تھوڑے مسلمانوں نے آپ کو قبول کیا تھا۔اور یہ امراس بات پر قرینہ حالیہ ہے کہ اس فقرہ کا تعلق کسی آئندہ زمانہ سے ہے جب کہ ایسا کوئی مسلمان نہ رہے گا جس نے آپ کو قبول نہ کیا ہو۔اور آپ کا مصدق نہ ہو۔وہ وقت آتا ہے کہ جب آپ کا غیر مصدق کوئی مسلمان نہیں ہوگا۔بلکہ غیر مسلموں میں سے جو لوگ سرکش طبیعت کے مالک ہیں وہی آپ کے مکذب ہوں گے۔پس الا کا استثناء اس جگہ بطور استثناء منقطع کے ہے۔یعنی یہ ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ ذریۃ البغایا وہ غیر مسلم ہوں گے جنہوں نے آپ کو قبول نہیں کیا ہوگا نہ کہ مسلمان۔پس اس عبارت کو خواہ مخواہ اس زمانہ کے مسلمانوں کے متعلق سمجھنا جنہوں نے آپ کو قبول نہیں کیا قرینہ حالیہ کے خلاف ہے۔کیونکہ عبارت میں "كُلُّ مُسلِم “ کا لفظ بتاتا ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں رہے گا۔جس نے آپ کو قبول نہ کیا ہو۔الا کے استثناء منقطع ہونے کی مثال قرآن مجید میں بھی موجود ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَسَجَدَ الْمَلَيْكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُوْنَ إِلَّا إِبْلِيسَ “ کہ تمام ملائکہ نے آدم کی خاطر سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔اس جگہ الا کا لفظ استثناء منقطع کے لئے ہے۔