احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 366
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 366 حصہ دوم کیونکہ اس شعر سے فی الواقعہ غلط نہی ہوسکتی ہے۔اس لئے میں نے یہ شعر حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اگست 1934ء میں پیش کیا۔اور نیز ڈاکٹر شاہ نواز صاحب کی ایک عبارت بھی پیش کی جو میرے نزدیک قابلِ اعتراض تھی۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس شعر کی نسبت تحریر فرمایا:۔ایسے لفظ پھر بھی ناپسندیدہ اور بے ادبی کے ہیں۔اور ڈاکٹر صاحب کے الفاظ کو بھی حضور نے نا پسندیدہ اور نامناسب قرار دیا۔(دیکھو الفضل 19 اگست 1934 ، صفحہ 5 کالم نمبر (1-2) پھر میں نے قاضی اکمل سے اس شعر کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میری مراد یہ ہے کہ مسیح موعود باقی مجددین امت سے بڑھ کر ہیں اور یہ ہر ایک مجدد اپنے زمانہ میں بروز محمد تھا۔گالیوں کا الزام اعتراض :۔مرزا صاحب نے اپنے مخالفوں کو گالیاں دیں۔چنانچہ آ کمالات اسلام میں لکھا ہے:۔"كُلُّ مُسْلِمٍ۔۔۔۔يَقْبِلُنِي وَيُصَدِّقُ دَعْوَتِي إِلَّا ذُرِّيَّةَ الْبَغَايَا “ نیز لکھا ہے:۔إِنَّ الْعِدَا صَارُوا خَنَازِيرَ الْفَلَا وَنِسَاتُهُمْ مِنْ دُونِهِنَّ الَا كُلَبُ ( نجم الحدی)