احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 14 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 14

تعلیمی پاکٹ بک معنوں میں لکھتے ہیں : 14 حصہ اوّل أَى مُسْتَوْفِي أَجَلَكَ وَمَعْنَاهُ : إِنِّي عَاصِمُكَ مِنْ أَنْ يَقْتُلَكَ الْكُفَّارُ۔وَ مُمِيْتُكَ حَتْفَ أَنْفِكَ لَا قَتْلاً بِأَيْدِيهِمْ۔یعنی میں تیری عمر پوری کرنے والا ہوں اور تجھے اس طرح قبضہ میں لے لینے والا ہوں کہ کفار تجھے قتل نہ کرسکیں اور تجھے طبعی موت دینے والا ہوں نہ ان کے ہاتھوں سے قتل ہوکر موت۔تفسیر روح المعانی میں بھی یہی معنی لکھے ہیں۔بعض مفسرین نے اس جگہ مُتَوَفِّیک کے معنی۔میں تجھے وفات دینے والا ہوں لے کر رَافِعُكَ کے یہ معنی کئے ہیں۔وفات دینے کے بعد تجھے زندہ کر کے آسمان پر اُٹھا لینے والا ہوں یہ معنی درست نہیں کیونکہ وفات دینے کے بعد زندہ کرنے اور آسمان پر اٹھانے کا کوئی ذکر اس جگہ موجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے صرف وفات دینے کے بعد اپنی طرف اٹھا لینے کا ذکر کیا ہے پس اس سے رُوح کا خدا کی طرف اٹھایا جانا اور روحانی رفع دیا جانا یعنی مزید عزت بخشا جانا ہی مراد ہے۔عزت دینا اور قرب عطا کرنا ہی رفع کے متعارف معنی ہیں۔اور حضرت مسیح کا جسمانی رفع الی اللہ تو محال ہے کیونکہ خدا تعالیٰ جہات سے پاک ہے اور رفع جسمانی خدا تعالیٰ کے ذو جہت ہونے کو چاہتا ہے اور خدا کا ذو جہت ہونا محال ہے لہذا اس کی طرف رفع جسمانی محال ہے۔بعض لوگوں نے یہ کہہ کر کہ وا جمع کے لئے ہوتی ہے نہ ترتیب کے لئے آیت میں تقدیم و تاخیر تسلیم کی ہے یعنی رفع پہلے کیا اور وفات بعد میں دے گا۔اس طرح رَافِعُكَ اِلَی کے معنی مسیح کو آسمان پر مع جسم اٹھانے والا ہوں لیے ہیں۔یہ معنی بھی بوجوہات ذیل درست نہیں۔