احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 307
حمدی تعلیمی پاکٹ بک 307 حصہ دوم یعنی اے بیٹے اولیاء خدا کے اطفال ہیں۔صوفیاء کا یہ اولیاء اللہ کو مجاز أخدا کے بیٹے قرار دینا حدیث نبوی الخَلْقُ عَيَالُ الله “ (مشکوۃ باب الشفقت ) کے عین مطابق ہے۔اس حدیث میں مجاز امخلوق کو خدا کا کنبہ قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ خدا بیوی بچوں سے پاک ہے۔پس مخلوق کو عیال اللہ قرار دینا بطور مجاز اور استعارہ کے ہے نہ بطور حقیقت کے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس الہام کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔(الف) خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے اور یہ کلمہ بطور استعارہ کے ہے چونکہ اس زمانہ میں ایسے ایسے الفاظ سے نادان عیسائیوں نے حضرت عیسی کو خدا ٹھہرا رکھا ہے اسلئے مصلحت الہی نے یہ چاہا کہ اس سے بڑھ کر الفاظ اس عاجز کے لئے استعمال کرے تا عیسائیوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سمجھیں کہ وہ الفاظ جن سے مسیح کو خدا بناتے ہیں اس اُمت میں بھی ایک ہے جس کی نسبت اس سے بڑھ کر ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 89 حاشیہ) (ب) یاد رہے کہ خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں۔لیکن یہ فقرہ اس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہا تھ قرار دیا ہے اور فرمایا:۔يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ “ ایسا ہی بجائے قُلْ يَا عِبَادَ اللهِ کے قُلْ لِعِبَادِي۔۔۔۔پس اس خدا کے کلام کو ہوشیاری اور احتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ۔اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو۔اور