احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 261
ندی تعلیمی پاکٹ بک 261 حصہ دوم اس جدید اجتہاد سے جو الہام جدید کی روشنی میں کیا گیا۔اب حضرت اقدس کا درمیانی زمانہ کا اجتہاد جس میں آپ محمدی بیگم صاحبہ کے خاوند کے تو بہ توڑنے کو اور اس کے بعد نکاح کو ضروری قرار دیتے تھے۔قابل حجت نہ رہا۔پس یہ پیشگوئی اپنی الہامی شرط کے مطابق ظہور پذیر ہو چکی ہے اور اس پیشگوئی کے الہامات پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔اسی طرح حضرت اقدس کا آخری اجتہاد بھی سنت اللہ کے مطابق درست تھا۔اس پر بھی کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔اس جدید الہام کی وجہ سے درمیانی زمانہ کی عبارتیں جو سلطان محمد صاحب کی موت کو ضروری اور اس کے بعد نکاح کو مبرم قرار دیتی تھیں۔اس شرط سے مشروط سمجھی جائیں گی کہ اگر سلطان محمد از خود تو بہ توڑ دیں تو ان کی ہلاکت اور ا کے بعد حضرت اقدس سے نکاح کا وقوع ضرور ہوگا ورنہ نہیں۔پس جدید اجتہاد کی بنا پر پیش کردہ عبارتیں اوپر کی شرط سے مشروط ہوگئی ہیں۔عبارتیں یوں پڑھی جائیں لہذا اب یہ عبارتیں یوں پڑھی جانی چاہیئیں :۔(1) (اگر مرزا سلطان محمد کسی وقت تو بہ تو ڑ کر پیشگوئی کی تکذیب کرے تو ) اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے الہام الہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ یعنی میری یہ بات ہر گز نہیں ملے گی۔پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔(اعلان 6 ستمبر 1894 ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد سوم صفحہ 115 - مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 399 بار دوم ) (2) ایک حصہ پیشگوئی کا یعنی احمد بیگ کا میعاد کے اندر فوت ہو جانا حسب منشاء پیشگوئی صفائی سے پورا ہوگیا اور دوسرے کی انتظار ہے۔(بشرطیکہ مرزا سلطان محمد