احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 198
تعلیمی پاکٹ بک 198 حصہ اوّل ہندوستان واپس آنے کی اجازت نہ دی گئی یہاں تک کہ پنجاب پر انگریزی تسلط پوری طرح ہو گیا۔غدر کے بعد دہلی کی مغلیہ حکومت بھی کلیہ مٹ گئی اور کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ رہا۔اس وقت راجہ دلیپ سنگھ نے پنجاب آنے کا ارادہ کیا اور اجازت بھی مل گئی اور عام طور پر مشہور ہو گیا کہ وہ عنقریب آنے والے ہیں اس وقت حضرت اقدس کو الہاما بتایا گیا کہ وہ اس ارادے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔چنانچہ آپ نے بہت سے لوگوں کو خصوصاً ہندوؤں کو اس کے متعلق اطلاع دے دی اور ایک اشتہار میں بھی اشارتاً لکھ دیا کہ ایک نو وار در کیس پنجاب کو ابتلا ء پیش آئے گا۔چنانچہ حضور نے لکھا :۔اشتہار 20 فروری 1886ء جس میں لکھا ہے کہ امیر نو وارد پنجابی الاصل کے متعلق متوحش خبریں۔۔۔۔۔اس سے مراد دلیپ سنگھ ہے۔اس کے بعد اشتہا ر واجب الاظہار میں لکھا :۔”ہم نے صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے جس کے پنجاب میں آنے کی خبر مشہور ہورہی ہے، لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ ناکام رہے گا بلکہ اس سفر میں اس کی عزت آسائش یا جان کا خطرہ ہے بالآخر اس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت حرج اور تکلیف اور سبکی اور خجالت اٹھانی پڑی اور وہ اپنے مد عاسے محروم رہا۔‘“ جب حضور نے یہ پیشگوئی شائع کی اور مختلف ہندوؤں اور مسلمانوں کو بتائی اس وقت کسی کو یہ خیال بھی نہ تھا کہ دلیپ سنگھ ہندوستان آنے سے روک دیئے جائیں گے بلکہ اس کے برعکس یہ خبر گرم تھی کہ وہ ہندوستان آرہے ہیں اور عنقریب پہنچنے والے ہیں مگر اسی عرصہ میں گورنمنٹ کو احساس ہوا کہ راجہ دلیپ سنگھ صاحب کا