احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 188
تعلیمی پاکٹ بک 188 حصہ اول یاد دلایا جسے آپ 26 مئی 1898ء کے اشتہار میں شائع فرما چکے تھے کہ :۔إنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُ وا مَا بِأَنْفُسِهُم إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَةَ۔یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کر لیں جو ان کے دلوں میں ہیں یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دور نہیں ہوگی اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تا تم سمجھو کہ قادیان اسی لیے محفوظ رکھی گئی ہے کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔دافع البلاء روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 225 ، 226) غور کا مقام ہے کہ ایک شخص جسے لوگ نعوذ باللہ کذاب اور دجال کہتے تھے وہ ملک میں طاعون کی آمد سے چار سال قبل جبکہ اس موذی مرض کا نام ونشان بھی اس ملک میں موجود نہ تھا طاعون کی خبر دیتا ہے پھر ایسے وقت میں جب کہ مرض پوری شدت کے ساتھ ملک میں پھیل گئی اور لوگ کتوں کی طرح مرنے لگے اپنی اور اپنے اہل وعیال اور اپنے گھر اور اپنے مولد ومسکن کی عصمت و حفاظت کی الہامی خبران الفاظ میں دیتا ہے اِنّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔۔۔۔وَ أَحَافِظُكَ خَاصَّةً - ( تذکرہ صفحہ 350 مطبوعہ 2004 ء ) جولوگ تیرے گھر کی چاردیواری میں ہوں گے میں انکی خود حفاظت کروں گا اور تیری خاص طور پر حفاظت کروں گا۔پھر یہی نہیں بلکہ اپنے مخالفین کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر ان کا بھی خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق ہے تو وہ بھی اس قسم کا دعوی شائع کر کے دیکھ لیں اگر ان کے مساکن طاعون سے محفوظ رہے تو میں ان کو اولیاء اللہ میں سمجھ لوں گا مگر ہوا وہی جس کی اللہ تعالیٰ نے پہلے خبر دی تھی۔یعنی خود آپ اور آپ کے اہل وعیال اور آپ کے