احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 169
تعلیمی پاکٹ بک استدلال :۔169 حصہ اوّل نوح علیہ السلام کے زمانے میں ان کے منکرین پر سیلاب کا عذاب آیا لیکن مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پیشگوئیوں کے مطابق طاعون کا عذاب آیا جس میں ہزاروں گھرانے ملیا میٹ ہو گئے اور طاعون کے زمانہ میں شہر اور گاؤں ویران ہو گئے لوگ جنگلوں میں پناہ لے رہے تھے کیونکہ گھر طاعون کے جراثیم کا مرکز بنے ہوئے تھے اور طاعون کا سیلاب ہر طرف تباہی مچارہا تھا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہام کیا کہ وہ اپنا گھر نہ چھوڑیں۔إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ ( تذكر، صفحہ 350 مطبوعہ 2004ء) اس گھر کی چار دیواری میں سب رہنے والوں کی میں حفاظت کروں گا۔نیز فرمایا وَأَحَافِظُكَ خَاصَّةً ( تذکره صفحه 350 مطبوعہ 2004ء) کہ تیری خاص طور پر حفاظت کروں گا۔چنانچہ یہ نشان صفائی سے ظاہر ہوا اور اپنے اندر نوح کی کشتی سے زیادہ شوکت رکھتا تھا کیونکہ کشتی تو بہر حال پانی سے بچانے کے لئے ہوتی ہے لیکن اس کے برخلاف طاعون کے سیلاب کے وقت گھر ہلاکت کا ذریعہ ہوتے ہیں مگر مسیح موعود علیہ السلام کے لئے خدا تعالیٰ نے ہلاکت کے ذریعہ کو اپنے فضل سے حفاظت کا ذریعہ بنا دیا۔طاعون کے زمانہ میں اسی کے قریب افراد اس مکان میں رہتے تھے اردگرد کے گھروں میں طاعون سے اموات ہوئیں مگر دار مسیح میں ایک متنفس بھی طاعون سے ہلاک نہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے بڑی شان سے اپنی حفاظت کا وعدہ پورا فرمایا۔دلیل پنجم وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ۔فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِيْنَ۔(الحاقه : 45 تا 48)