احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 94 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 94

تعلیمی پاکٹ بک 94 حصہ اوّل کی حدیث کے یہ الفاظ بھی کہ أَلَا إِنَّهُ خَلِيفَتِي فِي أُمَّتِی کہ وہ میری اُمت میں میرا خلیفہ ہے۔ان سب حدیثوں میں یہ مذکور ہے کہ مسیح موعود امت محمدیہ کا امام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوگا۔لیکن ہو گا اُمت سے۔باہر سے نہیں آئے گا۔کیونکہ آیت استخلاف میں یہ وعدہ ہے کہ اس اُمت کے ائمہ وخلفاء امت میں سے ہی ہوں گے البتہ وہ اس اُمت سے پہلے گزرے ہوئے خلفاء سے مشابہ ہوں گے۔پس حضرت عیسی علیہ السلام کے مشابہ تو کوئی خلیفہ آ سکتا ہے خود حضرت عیسی علیہ السلام کا اصالتاً نزول آیت استخلاف کی رُو سے محال اور ممتنع ہے کیونکہ اس سے مشبہ اور مشبہ بہ کا عین ہونا لازم آتا ہے جو محال ہے۔حیات سیخ پر اجماع کا دعوی باطل ہے اوپر کی بحث سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ میچ کی حیات اور وفات کے متعلق دو خیال مسلمانوں میں موجو د رہے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ حیات مسیح کے عقیدہ پر امت میں کبھی اجماع نہیں ہوا۔البتہ جیسا کہ ہم نے ثابت کر دیا ہے وفات مسیح پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ثابت ہے پس وفات مسیح کے عقیدہ کو ہی اجماعی دلیل ہونے کا حق حاصل ہے۔اسی طرح نزول ابن مریم کے بارہ میں بھی دو خیال کے مسلمان موجود رہے ہیں۔ایک گروہ ابن مریم کے اصالتا نزول کا قائل رہا اور دوسرا بروزی صورت کا قائل۔لہذا حضرت مسیح علیہ السلام کے اصالتا آسمان سے نازل ہونے پر بھی اجماع ثابت نہیں۔لہذا مفسرین کے جو اقوال اس بارہ میں منفر دا نہ حیثیت کے ہیں وہ حجت اور دلیل نہیں بن سکتے ماسوائے اس کے فقہ حنفیہ کی رُو سے آئندہ ہونے والے امور