احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 22 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 22

(تفہیم القرآن جلد ا صفحه ۴۹۱ اسورة النساء) حضرت مرزا صاحب نے پادریوں کو انہی کے اعتقادات دکھائے۔مگر ساتھ ساتھ ہمیشہ اس امر کی وضاحت فرماتے رہے کہ ان کا روئے سخن اس فرضی یسوع کی طرف ہے جو عیسائیوں کے مسلمہ صحیفوں سے نظر آتا ہے۔اور اس فرضی مسیح کا نقشہ جو بائبل سے ابھرتا ہے وہ عیسائیوں کو بطور آئینہ کے دکھایا۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ اُن کے یسوع کا تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔66 (ضمیمه انجام آتھم صفحه ۱۸۔۱۹ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۱ صفحه ۲۹۲۔۲۹۳) اور اس طرز خطاب کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں:۔چونکہ پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفے ﷺ پر تہمت لگائی اور سوا اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سب و شتم استعمال کئے۔اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جاوے۔لہذا یہ رسالہ لکھا گیا۔امید ہے کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرا یہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔تاہم ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شانِ مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری ہے۔کیونکہ اس نادان (فتح مسیح۔ناقل ) نے بہت ہی مھمدت سے گالیاں آنحضرت کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے۔(نور القرآن“ نمبر ۲ صفحه ۱ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۳۷۶) یہ وضاحت مرزا صاحب کی تحریرات میں جگہ جگہ موجود ہے کہ:۔” پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ سمجھ لیں بلکہ وہ کلمات اُس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں نام و نشان نہیں“۔( تبلیغ رسالت " جلد ۵ صفحه ۸۰) پھر فرماتے ہیں:۔سو ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسی ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں۔اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارت کو صد ہا گالیوں سے بھر دیا ہے جس مولوی کی خواہش ہو وہ آکر دیکھ لیوئے“۔(اشتہار ” ناظرین کے لئے ضروری اطلاع “،۲۰ /دسمبر ۱۸۹۵ء نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۳۷۵) پھر فرماتے ہیں:۔ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور القرآن کا جاری ہوا ہے جس نے بجائے مہذبانہ کلام کے ہمارے سید و مولی نبی ﷺ کی نسبت گالیوں سے کام لیا ہے اور اپنی ذاتی خباثت سے اس امام الطیبین و سید المطہرین پر سراسر افتراء سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے لہذا محض ایسے یاوہ گو لوگوں کے علاج کے لئے جواب ترکی بہ ترکی دینا پڑا۔ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولی محمد مصطفے ﷺ پر دل جان سے ایمان لائے تھے، اور حضرت موسیٰ کی شریعت کے صد ہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔پس ہم ان کی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں۔لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعوی کرتا تھا اور بجز اپنے نفس کے تمام اولین آخرین کو لعنتی سمجھتا تھا یعنی ان بدکاریوں کا مرتکب خیال کرتا تھا جن کی سز العنت ہے ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں۔ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسی بن مریم جو نبی تھا اور جس کا ذکر قرآن میں ہے۔وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن