اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 67 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 67

ازواج النبی 67 حضرت عائشہ اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ کھیل اور تفریح کا مشغلہ شادی کے بعد بھی جاری رکھا جو قابل اعتراض نہیں۔حضور علی کیم کی تشریف آوری پر آپ کی سہیلیوں کا بھاگ جانا ظاہر کر رہا ہے کہ آپ کی ہم عمر لڑکیاں بھی یہ شعور رکھتی تھیں کہ حضرت عائشہ شادی شدہ ہیں اور ان کے شوہر کے آجانے کے بعد ان کو حضور علم کی خدمت کے لئے فارغ کر دینا مناسب ہے۔رسول اللہ لی ی ی یتیم کی دلداری کا ایک واقعہ حضرت عائشہ یوں بیان فرماتی ہیں کہ رسول کریم صله ی کم گھر میں تشریف فرماتھے کہ اچانک ہم نے باہر کچھ شور اور بچوں کی آوازیں سنیں۔نبی کریم طی تم نے باہر جا کر دیکھا تو ایک حبشی عورت تماشا کر رہی تھی اور بچے بالے اس کے گرد جمع تھے۔آپ نے مجھے فرمایا "عائشہ ! تم بھی آکر دیکھ لو" میں نے آکر اپنی ٹھوڑی رسول اللہ ملی یا کریم کے کندھے پر رکھی اور دیکھنے لگی۔کچھ دیر بعد حضور پوچھتے دیکھ چکی ہو ؟ بس کافی ہے ؟ میں کہہ دیتی " نہیں ابھی تو اور دیکھوں گی " اور میرے دل میں تھا کہ ذرا دیکھوں تو سہی یہ میرے کتنے ناز اٹھاتے ہیں۔اتنے میں حضرت عمرؓ آگئے تو بچے ان کو دیکھ کر بھاگ گئے۔رسول کریم طلم نے فرمایا " معلوم ہوتا ہے انسانوں اور جنوں میں سے تمام شیطان عمرؓ کے خوف سے بھاگتے ہیں۔" رسول کریم میں اپنی تمام بیویوں کے ساتھ ان کی دلچسپی اور مذاق کے مطابق بات کر نا پسند فرماتے تھے مگر حضرت عائشہ کی نو عمری کا خاص لحاظ تھا انہی کی زبانی یہ دلچسپ واقعہ سنے ایک دفعہ ہم گھر کے کمرے میں بیٹھے تھے ، ہوا کا جھونکا آیا تو الماری کا وہ پردہ ہٹ گیا جس کے پیچھے میری کھیلنے کی گڑیاں رکھی تھیں۔رسول کریم میم نے دیکھ کر فرمایا۔عائشہ یہ کیا ؟ میں نے عرض کیا حضور طی نیم میری گڑیاں ہیں۔آپ بڑی توجہ سے یہ سب کچھ ملاحظہ فرمارہے تھے۔گڑیوں کے درمیان میں چمڑے کے دو پروں والا ایک گھوڑا آپ نے دیکھا تو اس کے بارے میں پوچھا " عائشہ ان گڑیوں کے درمیان میں کیا رکھا ہے ؟ میں نے کہا گھوڑا ہے۔آپ پروں کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے۔اس کے اوپر کیا لگا ہے " میں نے کہا اس گھوڑے کے دو پر ہیں۔تعجب سے فرمایا " گھوڑے کے دو پر ؟" میں نے کہا آپ نے سنا نہیں کہ حضرت سلیمان علیہم کے گھوڑوں کے 15 11 پر ہوتے تھے۔اس پر آنحضرت لی لیلی کنیم بنے اور اتنا ہے کہ مجھے آپ کے دانت نظر آنے لگے۔