اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 66
ازواج النبی 66 حضرت عائشہ شادی کے موقع کی بعض اور دلچسپ تفاصیل حضرت اسماء بنت عمیں زوجہ حضرت جعفر طیار یوں بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ کی شادی پر میں نے انہیں تیار کیا تھا اور وہ عورتیں جنہوں نے حضرت عائشہ کو نبی اکرم یتیم کی خدمت میں پیش کیا تھا میں بھی ان میں شامل تھی۔اس موقع پر نبی اکرم کو دودھ کا پیالہ بھی پیش کیا گیا۔آپ نے اس میں سے کچھ پی لیا اور باقی حضرت عائشہ کو دیا۔حضرت عائشہ اپنی طبعی حیاء اور شرم کے باعث دودھ نہیں لے رہی تھیں۔حضرت اسماء نے انہیں کہا بی بی "آنحضرت کے ہاتھ سے دودھ کا پیالہ واپس نہ لوٹاؤ۔" اس پر حضرت عائشہ نے شرم و حیاء سے سمٹتے ہوئے دودھ کا وہ پیالہ لے کر اس میں سے کچھ دودھ پیا۔حضرت اسماء کی یہ نصیحت کتنی معنی خیز اور وزن رکھتی ہے۔کیونکہ نبی کریم ا یتیم کا مقام خدا کے بر گزیدہ نبی کا ہے۔جن کی روحانی برکات کے علاوہ بچا ہوا کھانا بھی تبرک اور باعث سعادت ہے۔پھر نبی اکرم نے فرمایا " اب اپنی سہیلیوں کو بھی پلاؤ "۔اسماء نے عرض کیا " یار سول اللہ ! ہمیں تو بھوک نہیں ہے "۔حضور نے فرمایا " بھوک اور جھوٹ دو چیزیں اکٹھی نہ کرو۔" اسماء نے عرض کیا " یار سول اللہ ! یہ جو بات ہم تکلفاً کہہ دیتے ہیں کہ بھوک وغیرہ نہیں ہے تو کیا یہ بھی جھوٹ شمار ہو گا؟" آپ نے فرمایا " یقیناً جھوٹے کو جھوٹا ہی لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ چھوٹے جھوٹ کو بھی جھوٹ ہی شمار کیا جاتا ہے۔' حضرت عائشہ کی دلداری 13 11 " حضرت عائشہ آنحضرت علم کی پہلی کنواری بیوی تھیں۔حضرت عائشہ اپنا یہ اعزاز بجاطور پر بیان بھی کیا کرتی تھیں۔حضور علم کی دیگر شادیاں ایسی خواتین سے ہوئیں جو مطلقہ یا بیوہ تھیں۔دوسری طرف آنحضور ملی ی یتیم حضرت عائشہ کی عمر کی مناسبت سے ان کا بہت لحاظ رکھتے اور دلداری فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہ خود بیان فرماتی ہیں کہ " شادی کے بعد بھی میں آنحضرت علی کریم کے گھر میں گڑیاں کھیلا کرتی تھی۔میری کچھ سہیلیاں میرے ساتھ کھیلنے آتی تھیں۔جب حضور علی سلیم گھر میں تشریف لاتے تو وہ آپ کے رعب سے بھاگ جاتیں۔حضور طی یک تم میری خاطر ان کو اکٹھا کر کے واپس گھر لے آتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتی رہتیں۔" اس زمانہ میں عورتوں کے لئے کوئی خاص سماجی دلچسپیاں نہ ہوتی تھیں۔اس لئے وہ فارغ وقت کھیل اور تفریح میں گزار نا پسند کرتی تھیں۔رسول اللہ علیم کی مصروفیات سے بھر پور زندگی میں حضرت عائشہ نے