اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 63
ازواج النبی 63 حضرت عائشہ دونوں جگہ وہ پیغام لے کر گئیں۔حضرت سودہ سے تو اسی زمانے میں شادی ہو گئی۔حضرت عائشہ اس وقت کم سن تھیں۔اس لئے ان سے نکاح تو ہو گیا لیکن رخصتی مدینہ جاکر ہوئی۔ان کی شادی کے متعلق رسول اللہ لی لی ایم کا کشف جن غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ نے پورا فرمایاوہ نہایت ایمان افروز ہے۔حضرت خولہ بیان کرتی ہیں کہ جب میں حضرت عائشہؓ کی والدہ کے پاس رسول اللہ صلی علیم کا پیغام لے کر گئی اور ان کو برکت کی دعا دے کر کہا " ایک بہت اچھا رشتہ عائشہ کے لئے لے کر آئی ہوں"۔انہوں نے کہا " ٹھہر و، ابو بکر آتے ہی ہوں گے "۔وہ تشریف لائے تو ان کو بتایا گیا کہ "عائشہ کے لئے رسول اللہ صلی علی ایم کے رشتہ کا پیغام ہے "۔حضرت ابو بکر صدیق کا پہلا اظہار یہ تھا کہ آنحضرت شینم تو میرے بھائی ہیں کیا بھتیجی سے یہ رشتہ مناسب ہو گا۔حضرت خولہ نے رسول کریم ایم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا کہ "ابو بکر سے جاکر کہو بے شک وہ میرے اسلامی بھائی ہیں۔مگر یہ تعلق دینی محبت اور بھائی چارے کا ہے اور شرعاًیہ رشتہ کرنے میں کوئی روک نہیں "۔حضرت خولہ نے حضرت ابو بکر اور حضرت ام رومان کے پاس جاکر اس بات کا ذکر کیا تو حضرت ابو بکر نے کچھ مہلت چاہی۔ام رومان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ دراصل بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکر قول کے بڑے پچکے ہیں۔ان کے دوست مطعم بن عدی نے پہلے سے اپنے بیٹے جبیر کے لئے ان سے عائشہ" کارشتہ مانگ رکھا ہے۔اس لئے مطعم سے بات کئے بغیر کوئی فیصلہ مشکل ہے۔پھر اس کے بعد ایک دن حضرت ابو بکر سردار قریش مطعم کے گھر گئے اور کہا کہ عائشہ بڑی ہو رہی ہیں۔اب اس رشتہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ مطعم تو خاموش رہے۔ان کی بیوی بول پڑی کہ " یہ لڑکی تو ٹھہری بے دین ! ہمارے بیٹے کو بھی گمراہ کر دے گی " حضرت ابو بکر مطعم سے مخاطب ہوئے کہ " آپ کی کیا رائے ہے ؟" وہ کہنے لگے "میری بیوی کی رائے آپ نے سن ہی لی ہے" اس پر حضرت ابو بکر کو تسلی ہو گئی کہ اب وعدہ خلافی کا الزام مجھ پر نہیں آئے گا۔چنانچہ انہوں نے حضرت خولہ کے ذریعہ حضور علی یا تم کو یہ پیغام بھجوادیا کہ " ہمیں آپ کارشتہ منظور ہے " یوں حضرت عائشہ کے ساتھ نبی اکرم علی ایم کا نکاح ہو گیا۔