اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 62 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 62

ازواج النبی 62 حضرت عائشہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔حضرت ابو بکر کا تعلق قریش کی شاخ تیم بن مرہ بن کعب سے تھا۔آپ کا شجرہ نسب آٹھویں پشت میں جا کر آنحضرت ایینیم سے جاملتا ہے۔آپ کے قبیلہ کے سپردخون بہا اور دیتیں جمع کرنا تھا اور حضرت ابو بکر اپنے قبیلہ کی طرف سے یہ اہم کام انجام دیتے تھے۔حضرت عائشہ کی والدہ حضرت ام رومان نے بھی ابتدائی زمانے میں ہی اسلام قبول کیا تھا۔ان کی وفات پر حضور نے فرمایا کہ "جس نے جنت کی حور کو دیکھنا ہو وہ ام رومان کو دیکھ لے“۔رسول اللہ صل عالم سے نکاح حضرت عائشہ کی پیدائش روایات کے مطابق رسول اللہ و سلم کی بعثت کے چوتھے سال بیان کی جاتی ہے۔جیسا کہ ذکر ہوا ان کی شادی آنحضرت لیلی یتیم کے ساتھ خاص الٹی مشیت کے تحت ہوئی تھی۔حضور نے شادی کے بعد اس بارہ میں حضرت عائشہ سے اپنی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔"عائشہ ! تم شادی سے پہلے دو دفعہ مجھے خواب میں دکھائی گئیں" دوسری روایت کے مطابق آپ نے حضرت عائشہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ "فرشتہ تمہیں میرے پاس تین راتیں ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر لا تار ہا اور کہا یہ دنیا و آخرت میں تمہاری بیوی ہے۔میں نے چہرہ سے کپڑا اٹھایا تو کیادیکھتا ہوں کہ وہ تم ہو۔اس پر میں نے کہا اس رؤیا سے خدا کی یہی منشاء ہے تو وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔" رض رض یہ رویا غیر معمولی حالات کے باوجود بڑی شان سے پوری ہوئی۔اللہ تعالی نے اس کے سامان یوں پیدا فرمائے کہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد حضرت خولہ بنت حکیم آنحضور ملی یم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ " یار سول اللہ صل اللہ ! ہم آپ کو اداس اور غمزدہ دیکھتے ہیں " کیا بات ہے ؟ حضور ملی یا ہم نے فرمایا " یہ درست ہے حضرت خدیجہ میرا بہت خیال رکھنے والی تھیں اور ان کی وفات کے بعد بجاطور پر میری یہی کیفیت ہے" انہوں نے عرض کیا آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے " حضور نے فرمایا "کس سے؟" انہوں نے عرض کیا " یار سول الله طی یکی دورشتے ہیں۔ایک تو کنواری لڑکی عائشہ بنت ابو بکر نہیں اور دوسری ایک بیوہ خاتون سودہ بنت زمعہ حضور اکرم نے فرمایا ”آپ دونوں جگہ پیغام دے دیں۔“ حضرت خولہ