اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 308
اولاد النبی 308 حضرت امام حسن ہیں۔اصلی بات یہ ہے کہ ہر شخص کے جدا جدا قویٰ معلوم ہوتے ہیں۔حضرت امام حسن نے پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بڑھے اور خون ہوں۔انہوں نے امن پسندی کو مد نظر رکھا۔۔۔۔۔نیت نیک تھی۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَاتِ" حضرت امام حسن اس مصالحت کے بعد دس سال تک زندہ رہے۔بوقت وفات آپ نے حضرت امام حسین کو راز دارانہ رنگ میں یہ نصیحت کی کہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم اہل بیت میں نبوت کے ساتھ حکومت وخلافت جمع نہیں کرے گا اور اہل کوفہ سے مجھے تمہارے بارہ میں کچھ اچھی توقع نہیں ہے پھر اپنی تجہیز و تکفین اور تدفین کے بارہ میں وصیت کرتے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ سے ان کے حجرہ میں رسول اللہ نیم کے ساتھ تدفین کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے اجازت بھی دے دی تھی مگر مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے از راہ مروت ایسا کیا۔میری وفات کے بعد ان سے احتیاطاً دوبارہ پوچھ لینا اگر وہ بخوشی اجازت دیں تو مجھے ان کے حجرے میں دفن کر دینا۔مگر میرا خیال ہے کہ بعض لوگ اس راہ میں رکاوٹ ڈالیں گے اگر ایسا ہو تو پھر مجھے اپنے ان بزرگوں کے ساتھ جو ہمارے لیے نمونہ ہیں مسلمانوں کے عام قبرستان جنة البقیع میں دفن کر دینا۔وفات 44 جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے حضرت امام حسن کی مصالحت کی ایک شرط یہ تھی کہ امیر معاویہ کے بعد وہ ان کے جانشین ہوں گے۔یہ شرط اموی خاندان اور خصوصاً امیر معاویہ کے بیٹے یزید پر بہت بھاری تھی جو اپنے باپ کے بعد امارت و بادشاہت کے خواب دیکھ رہا تھا۔یہ بد بخت حضرت امام حسنؓ کے قتل کی سازشیں کرنے لگے۔چنانچہ حضرت امام حسنؓ کو کئی مرتبہ زہر دینے کی کوشش کی گئی لیکن ہر دفعہ وہ خدا کے فضل سے بچ جاتے رہے۔آخری مرتبہ زہر خورانی کے نتیجہ میں جب آپ اپنے جگر کے بل لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔اس دوران حضرت امام حسین آپ کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔حضرت امام حسنؓ نے کہا میرے بھائی ! مجھے تین دفعہ زہر پلایا گیا ہے مگر اس مرتبہ کا زہر اتنا شدید ہے کہ میرا جگر پھٹا جاتا ہے۔حضرت امام حسین نے پوچھا بھائی ! کس نے آپ کو زہر پلایا؟ آپ نے فرمایا کہ آپ یہ کیوں پوچھتے ہیں ؟ کیا آپ ان سے جنگ کرنا