اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 307
اولاد النبی 307 حضرت امام حسن کرنے والا ہو۔وہ خلیفہ نہیں جو ظلم کو اپنا شیوہ بنائے اور سنتِ رسول کو معطل کرتے ہوئے سب کچھ دنیا کو ہی 38 سمجھ لے۔امیر معاویہ نے اس پر اثر تقریر کے بعد حضرت عمرو سے کہا کہ یہ تمہاراہی مشورہ تھانا۔حضرت عمرو بن العاص بھی اس خلاف توقع لاجواب تقریر کے بعد سراسیمہ ہو کر امیر معاویہؓ سے کہنے لگے کہ بس میرا تو اتنا مقصد تھا کہ حضرت حسنؓ اپنی زبان سے سبکدوشی کا اعلان کر دیں۔معاہدہ صلح کا احترام 39 حضرت امیر معاویہ سے مصالحت کے بعد حضرت امام حسنؓ نے اسے قائم رکھنے اور قیام امن کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔اہل عراق میں سے آپ کے کئی ساتھی اس مصالحت پر نکتہ چینی کرتے تھے انہیں آپ نے مسلسل یہ تلقین فرمائی کہ تم لوگوں نے اس شرط پر میری بیعت کی تھی کہ جس سے میری جنگ ہو گی اس سے تمہاری جنگ اور جس سے میری صلح اس سے تمہاری صلح ہو گی۔اب جب میں نے امیر معاویہ سے صلح کر کے ان کی بیعت کرلی ہے تو تم میری سنو اور میری اطاعت کرو۔مصالحت کے بعد حضرت امیر معاویہ اور حضرت امام حسن اکٹھے کوفہ آئے۔امیر معاویہ نے "نخیلہ " مقام پر اپنے لشکر کے ساتھ کئی دن تک ڈیرہ لگائے رکھا۔اس دوران حضرت امام حسنؓ کئی مرتبہ حضرت امیر 41 40 معاویہ سے ملاقات کے لیے وہاں گئے۔مصالحت کے بعد امیر معاویہ نے حضرت حسن کو بیت المال سے ستر لاکھ درہم پیش کیے اور حضرت حسن اپنے اہل بیت کے ساتھ مدینہ روانہ ہوئے۔امیر معاویہ اور ان کے ساتھ اس مصالحت کے نتیجہ میں حضرت امام حسن اور ان کے والد حضرت علی کو برا بھلا کہنے سے باز آ گئے۔حضرت حسن بصرہ میں حضرت امیر معاویہؓ کا درس سنتے تھے۔بعد میں جب اہل بصرہ نے حضرت حسن کو خراج دینے سے انکار کیا تو امیر معاویہ نے حضرت حسنؓ کے لیے ایک لاکھ درہم سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ صلح کے اس کارنامہ پر حضرت امام حسنؓ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں "حضرت حسنؓ نے میری دانست میں بہت اچھا کام کیا کہ خلافت سے الگ ہو گئے۔پہلے ہی ہزاروں خون ہو چکے تھے۔انہوں نے پسند نہ کیا کہ اور خون ہوں۔اس لئے معاویہ سے گزارہ لے لیا۔چونکہ حضرت حسن کے اس فعل سے شیعہ پر زد ہوتی ہے اس لئے امام حسن پر پورے راضی نہیں ہوئے۔ہم تو دونوں کے ثناخواں