اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 288 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 288

اولاد النبی 288 حضرت فاطمہ بنت محمد نے اُن کو پیچھے ہٹا دیا اور اُن کی بجائے حسین کو دودھ دیا۔حضرت فاطمہ نے عرض کیا یارسول اللہ علی می کنیم 32 آپ کو زیادہ پیارا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں در اصل پہلے دودھ اس نے مانگا تھا۔حضرت ابو بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی یا کم نماز پڑھتے ہوئے جب سجدہ میں جاتے تھے تو بعض دفعہ حضرت حسنؓ آپ کی پشت یا گردن پر چڑھ جاتے۔حضور طی می کنیم بہت نرمی سے ان کو پکڑ کر اُتارتے تاکہ گریں نہیں۔صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ لی لی ہم حضرت حسن کے ساتھ آپ جس طرح محبت سے پیش آتے ہیں ایسا سلوک کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے۔فرمایا یہ دنیا میں میری خوشبو ہے۔میرا یہ بیٹا سر دار ہے جو دو گروہوں میں صلح کروائے گا۔® رسول اللہ صلی علی ایم کی وفات 34 10 ہجری میں آنحضرت میم کا وصال ہوا۔وفات سے ایک روز قبل آنحضرت طی تم نے حضرت فاطمہ کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائیں تو آپ اللہ کریم نے ان سے کان میں کچھ بات فرمائی۔جس پر حضرت فاطمہ رونے لگیں۔پھر آپ نے بلا کر کان میں کچھ کہا جس پر وہ ہنس پڑیں۔حضرت عائشہ نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ پہلی دفعہ آپ نے فرمایا کہ میں اسی مرض میں انتقال کروں گا۔جب میں رونے لگی تو فرمایا کہ میرے خاندان میں سب سے پہلے تم مجھ سے آکر ملو گی تو میں ہنسنے لگی۔حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ (حضور کی بیماری میں) آئیں نبی کر یم ا ہم نے فاطمہ کو خوش آمدید کہا اور اپنے دائیں طرف یا شاید بائیں جانب بٹھایا۔حضرت فاطمہ کو اپنے مقدس باپ سے جو محبت اور عشق تھا اسی وجہ سے آپ سے اپنے والد کی تکلیف دیکھی نہیں جارہی تھی بے ساختہ کہہ اٹھیں وائے میرے باپ کی تکلیف۔اس پر آنحضرت علیل ہم نے فرمایا آج کے بعد تمہارے باپ کو کوئی تکلیف نہ رہے گی۔رسول اللہ علی ایم کی وفات پر حضرت فاطمہ کی زبان سے جو جذباتی فقرے نکلے، ان سے بھی آپ کی گہری محبت پدری کا اظہار ہوتا ہے، آپ نے حضرت انسؓ سے کہا کہ وائے افسوس میرے ابا ! ہم آپ کی موت کا افسوس کس سے کریں ؟ کیا جبریل علیم سے ؟ وائے افسوس! ہمارے ابا! آپ اپنے رب کے کتنے قریب تھے ! ہائے افسوس! ہمارے ابا ہمیں داغ جدائی دے کر چلے گئے جنہوں نے جنت الفردوس میں گھر بنالیا۔ہائے افسوس! میرے ابا ! جنہوں نے اپنے رب کے بلانے پر لبیک کہا اور اس کے حضور حاضر ہو گئے۔