اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 286 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 286

اولاد النبی 286 حضرت فاطمہ بنت محمد تھے ، مگر رسول اللہ لی تم نے اسے پسند نہیں فرمایا۔چنانچہ آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور درج ذیل خطبہ ارشاد فرمایا:۔"آل ہشام علی بن ابی طالب سے اپنی بیٹی کا عقد کرنے کیلئے مجھ سے اس کی اجازت چاہتے ہیں لیکن میں اجازت نہ دونگا اور کبھی نہ دونگا۔البتہ ابن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے۔فاطمہ میرے جسم کا ایک حصہ ہے جس نے اس کو اذیت دی مجھ کو اذیت دی۔" نیز فرمایا " فاطمہ مجھ سے ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ (اس شادی کے ذریعہ ) اسے دین کے بارہ میں کہیں فتنہ میں نہ ڈالا جائے۔خدا کی قسم رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن (ابو جہل) کی بیٹی بیک وقت ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں " رسول الله علی ایم کی حضرت فاطمہ کی اولاد سے محبت رسول کریم صلی یا تم نے اپنی اولاد کی تربیت کی بنیاد محبت الہی پر رکھی تاکہ وہ اللہ کی محبت میں پروان چڑھیں 25 اور یہ محبت ان کے دل میں ایسی گھر کر جائے کہ وہ غیر اللہ سے آزاد ہو جائیں۔چنانچہ نبی کریم حضرت حسن اور حسین کو گود میں لے کر دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔حضرت فاطمۃ الزہراء کو اللہ نے پانچ اولاد عطا فرمائیں جن میں سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔شادی کے بعد حضرت فاطمہ صرف نو برس زندہ رہیں۔اس نو برس میں شادی کے دوسرے سال حضرت امام حسن پیدا ہوئے اور تیسرے سال حضرت امام حسین۔پھر غالباً پانچویں سال حضرت زینب اور ساتویں سال حضرت ام کلثوم۔نویں سال حضرت محسن بطن مادر میں ہی فوت ہو گئے۔اس جسمانی صدمہ سے حضرت فاطمہ بھی جانبر نہ ہو سکیں۔لہذا وفات کے وقت آپ نے دو صاحبزادوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اور دو صاحبزادیوں زینب کبری و ام کلثوم کو چھوڑا جو اپنے اوصاف کے لحاظ سے طبقہ خواتین میں اپنی ماں کی سچی جانشین ثابت ہوئیں۔رسول اللہ تم نے فرمایا اسامہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے سوائے (میری بیٹی) فاطمہ کے۔خود اسامہ کہتے ہیں کہ آنحضرت علی لیا کہ تم انہیں اور حضرت حسینؓ کو دونوں رانوں پر بٹھا لیتے اور فرماتے "اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما 2011 26